گوگل کے جیمنی اے آئی کی غلط ہدایات پر انحصار تین ناتجربہ کار ہائیکرز کو مہنگا پڑ گیا، جو کیلیفورنیا کے تقریباً 14 ہزار 180 فٹ بلند آتش فشاں ماؤنٹ شاستا پر پھنس گئے۔
امریکی یو ایس فاریسٹ سروس کے مطابق تینوں ہائیکرز نے اپنے بیک کنٹری سفر کی منصوبہ بندی کے دوران راستے کے تعین، سفر کے دورانیے کا اندازہ لگانے اور ضروری خوراک و سامان کی فہرست تیار کرنے کے لیے گوگل جیمنی اے آئی سے مدد لی تھی۔
حکام کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹ کی جانب سے انہیں ضرورت سے کم خوراک اور پانی ساتھ رکھنے کی ہدایت دی گئی، جس کے نتیجے میں ان کی ابتدائی طور پر متوقع آٹھ گھنٹے کی ہائیک 16 گھنٹے کی کٹھن آزمائش میں تبدیل ہوگئی۔
🇺🇸 Three novice hikers were rescued after using Google’s Gemini AI to plan a climb of Mount Shasta in Northern California.
The group reportedly followed flawed advice for the 14,179-ft summit, became lost during the descent, and spent the night stranded at 11,000 ft with dead… pic.twitter.com/tTwfISBf6u
— Europa.com (@europa) September 4, 2026
رپورٹ کے مطابق گروپ نے چوٹی تک پہنچنے کے بعد دوپہر کے وقت واپس اترنے کے بنیادی حفاظتی اصول پر بھی عمل نہیں کیا اور بالآخر شام تقریباً سات بجے چوٹی پر پہنچا۔ اندھیرا چھانے کے بعد واپسی کے دوران ہائیکرز راستہ بھٹک گئے اور مڈ کریک کینین کے علاقے میں جا پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا غلط استعمال ڈیپ فیک کی صورت میں لوگوں کیلئے ایک نیا خطرہ
اسی دوران ایک ہائیکر گرنے کے باعث گھٹنے پر چوٹ لگنے سے زخمی ہوگیا، جبکہ ان کا موبائل فون بھی بند ہوگیا۔ مناسب گرم لباس، پناہ گاہ، خوراک اور پانی نہ ہونے کے باعث تینوں کو شدید سردی میں رات گزارنا پڑی۔
اگلی صبح یو ایس فاریسٹ سروس کے کلائمبنگ رینجرز نے سرچ آپریشن کے دوران تینوں ہائیکرز کو تلاش کرلیا۔ رینجرز نے انہیں ابتدائی طبی امداد، ضروری سامان اور دیگر مدد فراہم کرنے کے بعد بحفاظت پہاڑ سے نیچے پہنچا دیا۔
واقعے کے بعد حکام نے بیک کنٹری یا دشوار گزار علاقوں میں سفر کی منصوبہ بندی کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر مکمل انحصار سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ایسے سفر میں مقامی ماہرین، موسمی حالات، سرکاری نقشوں اور متعلقہ حکام کی ہدایات کو ترجیح دینی چاہیے۔





