چین کا مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم بلی بلی (Bilibili) اب عالمی سطح پر اپنی موجودگی بڑھانے اور یوٹیوب کو ٹکر دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
پلیٹ فارم نے دنیا بھر کے صارفین اور کانٹینٹ کریئیٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔
آپ نے ٹک ٹاک، یوٹیوب اور انسٹاگرام تو ضرور استعمال کیے ہوں گے، لیکن کیا آپ نے کبھی بلی بلی کا نام سنا ہے؟ چین کا یہ مقبول پلیٹ فارم اب عالمی ویڈیو شیئرنگ مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے میدان میں اتر چکا ہے۔
بلی بلی کو یوٹیوب کے ممکنہ متبادل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پلیٹ فارم کی جانب سے دنیا بھر کے کانٹینٹ کریئیٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ اسے صرف چینی صارفین تک محدود رکھنے کے بجائے ایک عالمی ویڈیو پلیٹ فارم بنایا جا سکے۔
بلی بلی چین کے تیزی سے ترقی کرنے والے ویڈیو پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے اور کمپنی کی جانب سے اس کی ترقی اور توسیع پر اب تک اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب نے ویوز گننے کا طریقہ بدل دیا، 24 اگست سے نیا نظام نافذ ہوگا
عالمی صارفین کے لیے پلیٹ فارم کو مزید آسان بنانے کی جانب بھی اہم پیش رفت کی گئی ہے۔ نئی ایپ میں غیر ملکی صارفین کے لیے رجسٹریشن کا عمل آسان کردیا گیا ہے، جبکہ شناختی دستاویزات کی لازمی تصدیق کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بلی بلی عالمی سطح پر کانٹینٹ کریئیٹرز اور صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو ویڈیو شیئرنگ کے میدان میں یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر بڑے پلیٹ فارمز کے لیے ایک نیا اور مضبوط حریف سامنے آ سکتا ہے۔





