اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے معاملے پر صوبائی حکومت کو قانون سازی کے لیے مزید 3 ہفتے کا وقت دے دیا، کیس کی مزید سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے کی۔
سماعت کے دوران اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ صوبے کے 7 اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا بھر میں بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ کرانا چاہتی ہے، جبکہ گزشتہ سماعت پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے قانون سازی کے لیے 3 ہفتے کا وقت مانگا تھا۔
حکام کے مطابق صوبائی کابینہ کمیٹی کا اجلاس 31 اگست کو ہوا، جس میں حکومت نے دیگر صوبوں کے بلدیاتی نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کمیشن کو بتایا کہ صوبائی کابینہ کی کمیٹی بلدیاتی قانون میں ترامیم پر غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ
اس موقع پر ممبر بلوچستان نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا حکومت تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، ایسا نہ ہو کہ کمیشن کو وزیراعلیٰ کو طلب کرنا پڑے۔
ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات تو کروانے پڑیں گے اور کمیشن کے پاس اس حوالے سے بہت سے آئینی راستے موجود ہیں۔
ممبر خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون میں تبدیلی کے بعد تمام حلقہ بندیوں کا عمل دوبارہ کرنا پڑے گا۔
اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ صوبائی حکومت فیصلہ کرے تو الیکشن کمیشن پورے صوبے میں ایک ساتھ بلدیاتی انتخابات کرا سکتا ہے۔
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کے لیے مزید 3 ہفتے کی مہلت دے دی اور کیس کی مزید سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کردی۔





