کامران علی شاہ
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے بڈھ بیر سے مبینہ طور پر لاپتا ہونے والے شخص عمیر خان کی گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے بڈھ بیر تھانے کے موجودہ اور سابق ایس ایچ اوز کو متعلقہ ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نعمان کاکا خیل جبکہ لاپتا شخص کی والدہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔
لاپتا عمیر خان کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس ان کے بیٹے کو زبردستی گھر سے اٹھا کر لے گئی، جبکہ ان کے بقول ان کے بیٹے نے کوئی جرم نہیں کیا۔ والدہ نے کہا کہ وہ غریب ہیں اور بیٹے کی بازیابی کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے استفسار کیا کہ پورے علاقے میں صرف انہی کے بچے کو کیوں اٹھایا گیا؟ والدہ نے ایک مرتبہ پھر اپنے بیٹے کے بے گناہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات: الیکشن کمیشن نے حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت دے دی
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر شخص کو اپنا بچہ بے گناہ ہی نظر آتا ہے، تاہم عدالت نے پولیس کو ریکارڈ سمیت طلب کیا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ عمیر خان کو کیوں اٹھایا گیا۔
عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اگر پولیس کی جانب سے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا تو اس کی ویڈیو بطور ثبوت بنائی جانی چاہیے تھی۔
پشاور ہائیکورٹ نے بڈھ بیر تھانے کے موجودہ اور سابق ایس ایچ اوز کو متعلقہ ریکارڈ کے ہمراہ آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے پیر تک ملتوی کردی۔





