ویانا: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان پیش کرتے ہوئے جوہری اور تابکاری تحفظ سمیت جوہری سلامتی کے بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ کسی بھی ملک میں جوہری تحفظ اور سلامتی کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اصول جوہری تحفظ اور سلامتی سے متعلق آئی اے ای اے کی منصوبہ بندی اور سرگرمیوں میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے۔
چیئرمین پی اے ای سی نے کہا کہ جوہری تحفظ اور سلامتی پاکستان کے پُرامن جوہری پروگرام کے اہم اجزا ہیں اور پاکستان بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔
انہوں نے ملک میں جوہری تنصیبات کو گزشتہ پانچ دہائیوں سے محفوظ انداز میں چلانے کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مضبوط داخلی جوہری تحفظ اور سلامتی کے نظام کا مظہر قرار دیا۔
انہوں نے دنیا بھر میں جوہری تحفظ اور سلامتی کے شعبوں میں آئی اے ای اے کی معاونت سے ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے رکن ممالک کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ایجنسی کے کردار اور تعاون کو بھی اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیں : موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ فصلوں کی افزائش کے حوالے سے تربیتی کورس اختتام پذیر
ان کا کہنا تھا کہ کنونشن آن نیوکلیئر سیفٹی میں ممالک کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور اس کے جائزے کے عمل میں پیش رفت بھی قابلِ ذکر ہے۔ ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے عالمی سطح پر جوہری تحفظ کے فروغ میں پاکستان کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپریل 2026 میں منعقد ہونے والے کنونشن آن نیوکلیئر سیفٹی کے دسویں جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جبکہ اس اجلاس کے نتائج سے عالمی سطح پر جوہری تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
چیئرمین پی اے ای سی نے پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان جوہری تحفظ اور سلامتی کے شعبوں میں جاری تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2026 کے دوران پاکستانی ماہرین نے فلپائن میں آئی اے ای اے کے زیر انتظام ایک ہنگامی مشق اور چین میں انٹرنیشنل فزیکل پروٹیکشن ایڈوائزری سروس مشن میں شرکت کی۔
علاقائی سطح پر استعداد کار بڑھانے میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیفٹی اینڈ سکیورٹی، جو آئی اے ای اے کا کولیبریٹنگ سینٹر بھی ہے، ایجنسی کے تعاون سے مختلف سرگرمیوں کی میزبانی کرکے خطے کے رکن ممالک کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے پاکستان سینٹر آف ایکسی لینس فار نیوکلیئر سکیورٹی کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق یہ مرکز آئی اے ای اے کے ساتھ طے شدہ عملی انتظام کے تحت جوہری سلامتی کے شعبے میں رکن ممالک کی استعداد کار بڑھانے کے لیے علاقائی مرکز کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔





