پشاور: خیبرپختونخوا کے نوجوانوں نے وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر طرزِ حکمرانی اور یکساں ترقی کے لیے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کردی۔
ملک میں چھوٹے صوبوں اور انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنانے کے معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے آراء سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو خود مختاری تو حاصل ہوئی، تاہم بڑے صوبوں میں گورننس سے متعلق مسائل اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکے۔
ایک طالب علم نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے رقبے کے اعتبار سے بہت وسیع ہیں، جس کے باعث انتظامی امور مؤثر انداز میں چلانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کے مطابق صوبوں کو چھوٹے یونٹس میں تقسیم کرنے سے انتظامی معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں چلایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چترال کے عوام بھی نئے صوبے کے قیام کے مطالبے کی حمایت میں یک زبان
نوجوانوں کا کہنا تھا کہ پنجاب اس کی واضح مثال ہے، جہاں وسیع رقبے کے باعث دور دراز علاقوں پر ان کی مقامی ضروریات کے مطابق توجہ دینا مشکل ہوجاتا ہے۔
ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے مقامی سطح پر عوام کے مسائل کے حل اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
طلبہ نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کی صورت میں حکومتیں اپنے اپنے علاقوں کی ضروریات پر زیادہ توجہ مرکوز کرسکیں گی، جس سے انتظامی بوجھ میں بھی کمی آئے گی اور حکومتی امور کی انجام دہی بہتر ہوسکتی ہے۔
بعض نوجوانوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے کرپشن میں کمی لانے اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔





