پشاور: اقلیتی برادری کے آئینی و قانونی حقوق اور انہیں دستیاب سہولیات کا جائزہ لینے کیلئے ون مین کمیشن کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ون مین کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر محمد شعیب سڈل نے کی۔
اجلاس میں اقلیتی برادری کے نمائندوں، انتظامی سیکرٹریز اور پولیس حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ اقلیتی برادری کو آئینی اور قانونی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے خیبرپختونخوا نے کافی پیش رفت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد میں صوبے کی کارکردگی قابلِ تعریف ہے۔ اجلاس میں اقلیتی برادری کیلئے مختص پانچ فیصد سرکاری روزگار کوٹے پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اقلیتی برادری کیلئے مجموعی طور پر 3380 سرکاری آسامیاں مختص ہیں، جن میں سے 1282 اہل امیدواروں کو پانچ فیصد کوٹے کے تحت بھرتی کیا جاچکا ہے، جبکہ 2106 آسامیاں تاحال خالی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صوبوں کے معاملے پر تحریک انصاف ریفرنڈم کے حق میں نہیں ہوگی، شفیع اللہ جان
ڈاکٹر شعیب سڈل نے ہدایت کی کہ خالی آسامیوں پر اقلیتی امیدواروں کی بروقت بھرتی کیلئے مزید آسانیاں پیدا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطلوبہ اہلیت رکھنے والے امیدوار دستیاب نہ ہوں تو اقلیتی روزگار کوٹے پر عملدرآمد کیلئے مزید آپشنز پر بھی غور کیا جائے۔
اجلاس میں اقلیتی نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے ایک اکیڈمی قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ ڈاکٹر شعیب سڈل کے مطابق ایسی اکیڈمی اقلیتی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے تیار کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
سرکاری جامعات میں اقلیتی طلبہ کیلئے مختص دو فیصد کوٹے پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ تمام سرکاری جامعات نے آئندہ داخلوں میں دو فیصد اقلیتی طلبہ کوٹے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مکہ دفاعی معاہدہ، سعودی عرب کے دفاع کیلئے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، دفاعی تجزیہ کار
اجلاس کو گوردوارہ سارا گڑھی سنگھ سبھا ہنگو کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ گوردوارے کو سیکیورٹی فراہم کردی گئی ہے جبکہ رجسٹریشن مکمل ہوتے ہی مزید ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر شعیب سڈل نے متعلقہ حکام کو گوردوارہ سارا گڑھی کی رجسٹریشن کے عمل میں تعاون کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں اقلیتی ملازمین کی تقرری اور تبادلوں کے معاملے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ کمیٹی کی سربراہی ڈاکٹر محمد شعیب سڈل کریں گے، جبکہ تقرری اور تبادلوں کے عمل کیلئے واضح پالیسی اور رہنما اصول بھی مرتب کیے جائیں گے۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ اور انہیں سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اقلیتی برادری کے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔





