: پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور مہنگائی کے خلاف جاری کشمکش کے تناظر میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور بے نتیجہ ختم ہو گیا ہے، جس میں حکومتی ٹیم نے معاملے پر مزید تین دن کا وقت مانگ لیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اس اہم مذاارتی دور کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے بتایا کہ حکومتی وفد نے پیر تک اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس سنجیدہ جواب دینے کے بجائے محض لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے، اور اگر طے شدہ مدت میں عوام کو ریلیف نہ ملا تو ملک بھر سے دھرنے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کا خاتمہ اور عوام کو حقیقی ریلیف کی فراہمی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ بیوروکریسی مسائل کے حل میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے اور حکومتی وفد کے پاس بھی مشکلات کا پہاڑ پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: دھرنا اور مذاکرات چلتے رہیں گے، جماعت اسلامی نے 3 اہم مطالبات بھی حکومت کے سامنے رکھ دیئے
ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کو ایک مخصوص حد تک ہی کھینچا جا سکتا ہے اور طویل وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ ملاقات کے تفصیلی نتائج جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کو پیش کر دیے گئے ہیں، جن کی منظوری سے ہی حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے گزشتہ 26 روز سے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔





