صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد ایک گلاس پانی پینا صحت کے لیے مفید عادت ثابت ہوسکتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق رات بھر سونے کے دوران جسم کو پانی نہیں ملتا، جس کے باعث صبح اٹھنے پر ہلکی ڈی ہائیڈریشن کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔
جسم میں پانی کی کمی توانائی میں کمی، تھکن، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے میں صبح پانی پینا جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جبکہ مناسب مقدار میں پانی کا استعمال دن کے آغاز پر چستی اور توجہ بہتر بنانے میں بھی معاون ہوسکتا ہے۔
ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ 12 گھنٹے تک پانی نہ پینے والے نوجوانوں میں ردعمل کی رفتار سست ہونے کے ساتھ تھکن کی سطح زیادہ رہی، جبکہ یادداشت اور توجہ سے متعلق کارکردگی میں بھی کمی دیکھی گئی۔
تاہم ماہرین کے مطابق اگر تھکن کی اصل وجہ نیند کی کمی، ذہنی دباؤ یا کوئی طبی مسئلہ ہو تو محض پانی پینے سے نمایاں بہتری محسوس ہونا ضروری نہیں۔
صبح پانی پینے کا تعلق نظامِ ہاضمہ کی بہتر کارکردگی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ جسم میں پانی کی مناسب مقدار موجود ہونے کی صورت میں خوراک اور فضلہ نظامِ ہاضمہ میں زیادہ بہتر انداز سے حرکت کرتے ہیں۔
اس کے برعکس پانی کی کمی کے باعث فضلہ آنتوں میں زیادہ دیر تک موجود رہ سکتا ہے، جس سے قبض کی شکایت پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی کے ساتھ پانی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال قبض کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : انصاف کی بروقت فراہمی عدلیہ کی اولین ترجیح اور آئینی فریضہ ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
اگرچہ صبح اٹھتے ہی پانی پینا لازمی نہیں، تاہم یہ روزانہ جسم کی مطلوبہ مقدار پوری کرنے کا ایک اچھا آغاز ہوسکتا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ پورے دن کے دوران جسم کی ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں پانی استعمال کیا جائے۔
عام طور پر صبح ایک گلاس، یعنی تقریباً 8 سے 16 اونس پانی پینا مناسب آغاز سمجھا جاتا ہے۔ ایک ہی وقت میں بہت زیادہ پانی پینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس سے بے آرامی محسوس ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں اس تاثر کے مضبوط شواہد بھی نہیں ملتے کہ گرم پانی لازماً میٹابولزم کو تیز کرتا ہے۔ اسی طرح ٹھنڈا پانی ہاضمے کے لیے نقصان دہ ہونے کا تصور بھی مضبوط شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔
دوسری جانب ضرورت سے زیادہ پانی پینا بھی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں۔ بہت زیادہ پانی خون میں سوڈیم کی مقدار کم کرکے جسم کے معمول کے سیال توازن کو متاثر کرسکتا ہے۔
صحت مند افراد کے لیے عمومی طور پر پیاس کے مطابق پانی پینا مناسب طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ ہلکے زرد رنگ کا پیشاب عموماً مناسب ہائیڈریشن کی علامت جبکہ گہرے رنگ کا پیشاب جسم میں پانی کی کمی کی نشاندہی کرسکتا ہے۔
تاہم دل یا گردوں کے امراض میں مبتلا افراد، یا وہ لوگ جنہیں ڈاکٹر نے پانی کی مقدار محدود رکھنے کی ہدایت کی ہو، انہیں اپنی ضرورت کے مطابق پانی استعمال کرنے سے قبل طبی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔





