لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ان دنوں پنجاب کے دورے پر ہیں، تاہم لاہور پہنچتے ہی ان کی جانب سے پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس پر مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آگیا۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے انہیں اغوا کیا اور بعد ازاں سڑک پر چھوڑ دیا۔ انہوں نے اس واقعے کا ذمہ دار پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کو قرار دیا۔
وزیراعلیٰ کے بیان کے بعد ان کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں۔ ویڈیوز میں بظاہر دیکھا جاسکتا ہے کہ سہیل آفریدی خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھ رہے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ موجود افراد ویڈیوز بھی بناتے رہے۔
ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف سوالات اٹھائے گئے۔ بعض صارفین نے سوال کیا کہ اگر وزیراعلیٰ کو واقعی اغوا کیا گیا تھا تو ان کے ساتھ کیمرہ مین اور دیگر افراد کیسے موجود رہے اور مبینہ اغوا کے دوران ویڈیوز کیسے بنتی رہیں؟
ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے راہ چلتے موٹر سائیکل سواروں کو خود بتا رہے ہیں کہ دیکھو وزیراعلیٰ سُہیل آفریدی کو اغوا کرلیا ہے
موٹرسائیکل سواروں کا ری ایکشن: اچھا؟
🤣🤣🤣 pic.twitter.com/EMxpuVuDmp
— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) September 14, 2026
سوشل میڈیا صارف شمع جونیجو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے راہ چلتے موٹر سائیکل سواروں کو خود بتایا جارہا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی ورکر اور وزیراعلیٰ کے سابق معاون خصوصی نے بھی لاہور کے دورے کے دوران سہیل آفریدی کی ’اغوا والی ویڈیو‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب اغوا کاری ہے، وزیراعلیٰ اپنے گن مینوں اور کیمرہ مین سمیت پولیس کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
خالد خان نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے تو واپس آجائیں، تاہم پشتو فلموں والے سین نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹیو ہیں، کوئی اداکار نہیں۔
عجیب اغواء کاری ہے وزیراعلی اپنے گین مینوں اور کیمرہ مین سمیت پولیس گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
خدا کیلئے اگر اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے واپس آجاؤ لیکن یہ پشتو فلموں والے سین چھوڑ دو، آپ خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹیو ہو جہانگیری اداکار نہیں۔🙏🏼🙏🏼🙏🏼 pic.twitter.com/CNUEsBsL5E— Khalid Khan Supari (@SupariKhan) September 14, 2026
دوسری جانب ایک صحافی کی جانب سے سہیل آفریدی سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا ’بلی چوہے کا کھیل‘ چل رہا ہے؟ جس پر وزیراعلیٰ نے مبینہ طور پر صحافی سے سخت لہجے میں گفتگو کی اور گالم گلوچ بھی کی۔
اس رویے پر بھی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی گئی۔ بعض صارفین نے انہیں ’ٹک ٹاکر وزیراعلیٰ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انداز گفتگو اور رویہ وزیراعلیٰ کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔
سید عدنان نے تبصرہ کیا کہ سہیل آفریدی پشاور سے پنجاب آکر صحافیوں کے ساتھ ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو کسی بھی باعزت عہدے کے لیے موزوں نہیں۔
سہیل آفریدی پشاور سے پنجاب آ کر صحافیوں کے ساتھ وہ زبان استعمال کر رہے ہیں جو کسی بھی باعزت عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ نہ خود کی عزت، نہ دوسروں سے عزت سے بات۔
یہ وہی “ٹک ٹاکر وزیرِ اعلیٰ” ہے جس کی زبان پر قابو نہیں اور رویہ وزیرِ اعلیٰ والا نہیں۔👈صحافی کا سوال: کیا یہ بلی چوہے کا… pic.twitter.com/G1h5Ws9TBI
— سید عدنان بادشاہ 🇵🇰 (@syed_bacha) September 15, 2026
صحافی اعظم ملک نے بھی واقعے سے متعلق اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سہیل آفریدی سے سوال کیا تھا کہ وہ خود پولیس وین میں جاکر بیٹھے، نہ گرفتاری ہوئی اور نہ حراست، پولیس اپنی گاڑی میں انہیں لے گئی اور لکشمی چوک چھوڑ دیا، اس پر ان کا کیا کہنا ہے؟
جب ہم نے سہیل آفریدی سے پوچھا کہ “آپ خود پولیس وین میں جا کر بیٹھے، نہ گرفتاری ہوئی نہ حراست؛ آپ پولیس کی گاڑی میں بیٹھے پولیس اپنی گاڑی لے کر وہاں سے چل پڑی اور آپ کو لکشمی چوک چھوڑ دیا، اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟” تو انہوں نے جواب دینے کے بجائے کہا کہ “آپ حکومت کی سائیڈ لے رہے… pic.twitter.com/FjDg1U2jvK
— Azam Malik (@azammaalik) September 14, 2026
اعظم ملک کے مطابق سہیل آفریدی نے جواب دینے کے بجائے کہا کہ صحافی حکومت کی سائیڈ لے رہے ہیں۔ صحافی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے گارڈز انہیں قریب نہیں آنے دے رہے تھے، جس پر سہیل آفریدی اونچی آواز میں بولنے لگے۔
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے طنزیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ یہ شاید تاریخ کی پہلی ایسی ’اغوا کاری‘ ہے جس میں وزیراعلیٰ اپنے گن مین اور کیمرہ مین سمیت پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر مبینہ طور پر اغوا ہوئے اور انہیں ٹک ٹاک کے لیے ویڈیوز بنانے کی بھی مکمل آزادی حاصل رہی۔
تاریخ کی پہلی اور منفرد اغوا کاری ہے جس میں وزیراعلی سہیل آفریدی اپنے گن مین اور کیمرہ مین سمیت پولیس گاڑی میں بیٹھ کر اغوا ہوا
جہاں اسکو ٹک ٹاک کیلئے ویڈیو بنانے کی بھی آزادی دی گئی۔۔۔
منڑا سکرپٹ تو اچھا تیار کرتے، اس بھونڈے سٹنٹ پر پانچ سال کا بچہ
بھی یقین نہ لائے۔۔۔ pic.twitter.com/Y1lPNWdhho— Sabrina. Malik (@sabrinamalik786) September 14, 2026
صارف نے مزید کہا کہ اگر منظرنامہ تیار ہی کرنا تھا تو اسکرپٹ بہتر لکھا جاتا، کیونکہ اس پر شاید پانچ سال کا بچہ بھی یقین نہ کرے۔
عظمیٰ بخاری کا بھی طنزیہ ردعمل
دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی سہیل آفریدی کے دعوے پر ردعمل دیا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیراعلیٰ خود وین میں بیٹھ کر کیمرہ مین اور سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ ویڈیو بنوا رہے ہیں اور پھر اغوا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
خود وین میں بیٹھ کر کیمرہ مین اور گارڈز کے ساتھ ویڈیو بنوارہے ہیں اور اغوا ہوگئے،توبہ شرم کرو،ہوش کرو https://t.co/V56JFx8PpZ
— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) September 14, 2026
سہیل آفریدی کے اغوا کے دعوے، سامنے آنے والی ویڈیوز اور اس پر دونوں جانب سے آنے والے ردعمل کے بعد معاملہ سوشل میڈیا پر مسلسل زیر بحث ہے۔





