اگر اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے تو واپس آجاؤ، پشتو فلموں والے سین چھوڑ دو، سہیل آفریدی کی گرفتاری پر طنزیہ تبصرے

Pakistan SCO Summit 2026

لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ان دنوں پنجاب کے دورے پر ہیں، تاہم لاہور پہنچتے ہی ان کی جانب سے پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس پر مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آگیا۔

سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے انہیں اغوا کیا اور بعد ازاں سڑک پر چھوڑ دیا۔ انہوں نے اس واقعے کا ذمہ دار پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کو قرار دیا۔

وزیراعلیٰ کے بیان کے بعد ان کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں۔ ویڈیوز میں بظاہر دیکھا جاسکتا ہے کہ سہیل آفریدی خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھ رہے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ موجود افراد ویڈیوز بھی بناتے رہے۔

ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف سوالات اٹھائے گئے۔ بعض صارفین نے سوال کیا کہ اگر وزیراعلیٰ کو واقعی اغوا کیا گیا تھا تو ان کے ساتھ کیمرہ مین اور دیگر افراد کیسے موجود رہے اور مبینہ اغوا کے دوران ویڈیوز کیسے بنتی رہیں؟

سوشل میڈیا صارف شمع جونیجو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے راہ چلتے موٹر سائیکل سواروں کو خود بتایا جارہا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی ورکر اور وزیراعلیٰ کے سابق معاون خصوصی نے بھی لاہور کے دورے کے دوران سہیل آفریدی کی ’اغوا والی ویڈیو‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب اغوا کاری ہے، وزیراعلیٰ اپنے گن مینوں اور کیمرہ مین سمیت پولیس کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

خالد خان نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے تو واپس آجائیں، تاہم پشتو فلموں والے سین نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹیو ہیں، کوئی اداکار نہیں۔

دوسری جانب ایک صحافی کی جانب سے سہیل آفریدی سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا ’بلی چوہے کا کھیل‘ چل رہا ہے؟ جس پر وزیراعلیٰ نے مبینہ طور پر صحافی سے سخت لہجے میں گفتگو کی اور گالم گلوچ بھی کی۔

اس رویے پر بھی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی گئی۔ بعض صارفین نے انہیں ’ٹک ٹاکر وزیراعلیٰ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انداز گفتگو اور رویہ وزیراعلیٰ کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔

سید عدنان نے تبصرہ کیا کہ سہیل آفریدی پشاور سے پنجاب آکر صحافیوں کے ساتھ ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو کسی بھی باعزت عہدے کے لیے موزوں نہیں۔

صحافی اعظم ملک نے بھی واقعے سے متعلق اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سہیل آفریدی سے سوال کیا تھا کہ وہ خود پولیس وین میں جاکر بیٹھے، نہ گرفتاری ہوئی اور نہ حراست، پولیس اپنی گاڑی میں انہیں لے گئی اور لکشمی چوک چھوڑ دیا، اس پر ان کا کیا کہنا ہے؟

اعظم ملک کے مطابق سہیل آفریدی نے جواب دینے کے بجائے کہا کہ صحافی حکومت کی سائیڈ لے رہے ہیں۔ صحافی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے گارڈز انہیں قریب نہیں آنے دے رہے تھے، جس پر سہیل آفریدی اونچی آواز میں بولنے لگے۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے طنزیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ یہ شاید تاریخ کی پہلی ایسی ’اغوا کاری‘ ہے جس میں وزیراعلیٰ اپنے گن مین اور کیمرہ مین سمیت پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر مبینہ طور پر اغوا ہوئے اور انہیں ٹک ٹاک کے لیے ویڈیوز بنانے کی بھی مکمل آزادی حاصل رہی۔

صارف نے مزید کہا کہ اگر منظرنامہ تیار ہی کرنا تھا تو اسکرپٹ بہتر لکھا جاتا، کیونکہ اس پر شاید پانچ سال کا بچہ بھی یقین نہ کرے۔

عظمیٰ بخاری کا بھی طنزیہ ردعمل

دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی سہیل آفریدی کے دعوے پر ردعمل دیا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیراعلیٰ خود وین میں بیٹھ کر کیمرہ مین اور سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ ویڈیو بنوا رہے ہیں اور پھر اغوا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

سہیل آفریدی کے اغوا کے دعوے، سامنے آنے والی ویڈیوز اور اس پر دونوں جانب سے آنے والے ردعمل کے بعد معاملہ سوشل میڈیا پر مسلسل زیر بحث ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top