پشاور: خیبر پختونخوا صحت پروگرام کے تحت سی سیکشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ 47.43 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس پر طبی ضرورت اور ہسپتالوں کی نگرانی سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صحت پروگرام کے تحت ہونے والے سی سیکشن میں سے 83.4 فیصد نجی ہسپتالوں میں کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض کیسز میں طبی ضرورت کے بجائے مالی مفاد کو سی سیکشن کی ترجیح کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سی سیکشن کی مد میں ہسپتالوں کو نارمل ڈیلیوری کے مقابلے میں زیادہ ادائیگی کی جاتی ہے۔ صحت پروگرام میں سی سیکشن پیکیج 26 ہزار 575 روپے جبکہ نارمل ڈیلیوری پیکیج 15 ہزار 129 روپے مقرر ہے۔
رپورٹ میں سی سیکشن کی شرح میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مالی مفادات اور نگرانی کے فقدان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی شرح نے ہسپتالوں کی مانیٹرنگ اور نگرانی کے موجودہ نظام کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں ٹک ٹاک پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے 2 افراد گرفتار
غیر ضروری سی سیکشن کے بڑھتے ہوئے رجحان سے ماں اور بچے کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بار بار سی سیکشن کی صورت میں خواتین میں مختلف پیچیدگیوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
سی سیکشن کی شرح میں مسلسل اضافے نے خیبر پختونخوا صحت پروگرام کے بنیادی مقاصد اور ہسپتالوں کی نگرانی کے طریقہ کار پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
رپورٹ میں اس امر کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ سی سیکشن کے فیصلوں میں طبی ضرورت کو بنیادی اہمیت دی جائے اور ہسپتالوں کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ غیر ضروری آپریشنز کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔





