این سی سی آئی اے

این سی سی آئی اے کا نوٹس: کرکٹر محمد رضوان نے سوالنامے کا جواب جمع کرا دیا

قومی کرکٹر محمد رضوان نے آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق انکوائری میں این سی سی آئی اے (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) کے پانچ صفحات پر مشتمل سوال نامے کا باقاعدہ جواب جمع کرا دیا ہے۔

محمد رضوان نے اپنے جواب میں بتایا کہ انہیں 8 ستمبر کو ایجنسی کا نوٹس موصول ہوا تاہم پیشی کے دوران بارہا تقاضے کے باوجود انہیں الزامات کی مکمل نوعیت یا تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن کے معاملات کی تحقیقات کا قانونی فورم آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ ہے اور ان پر لگائے گئے الزامات آئی سی سی کو رپورٹ نہیں کیے گئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ وہ انکوائری کا حصہ بن سکیںیا پھر یہ معاملہ فوری طور پر آئی سی سی کو بھجوایا جائے۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے محمد رضوان کو بھیجے گئے پانچ صفحات پر مشتمل سوال نامے میں ان کی ذاتی، خاندانی اور مالیاتی زندگی کی تفصیلی معلومات طلب کی گئی ہیں۔

ایجنسی نے ان کی ولدیت، اہلیہ اور بچوں کے نام، اور گزشتہ دس سال سے زیرِ استعمال سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا ریکارڈ مانگا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سال کی تنخواہ، کاروباری و زرعی آمدن، بینک منافع، تمام بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز، لیے گئے قرضوں، اور گھریلو و تعلیمی اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

سوال نامے میں وراثتی جائیداد کی ملکیت کے ثبوت اور اندرون و بیرونِ ملک تمام اسفار اور ان کے اخراجات کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے۔

دریں اثناء چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں : این سی سی آئی اے کا نوٹس: کرکٹر محمد رضوان نے سوالنامے کا جواب جمع کرا دیا

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عدم پیشی اور حقائق چھپانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کرکٹر کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ طلبی نوٹس کو چیلنج کرنے کے بجائے شوکاز نوٹس کا قانون کے مطابق جواب دیں۔

Scroll to Top