صرف مذمت کافی نہیں، وفاقی حکومت نے افغانستان سے بڑا مطالبہ کردیا

افغانستان کی جانب سے صرف مذمت کافی نہیں، افغان حکومت کو زبانی ہمدردی ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائیوں میں بدلنا ہوگا،وفاقی وزارت اطلاعات

وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کا کہنا ہےکہ کوہاٹ حملے پر افغانستان کی جانب سے صرف مذمت کافی نہیں، افغان حکومت کو زبانی ہمدردی ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائیوں میں بدلنا ہوگا۔

وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے کوہاٹ حملے سے متعلق جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کوہاٹ حملہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے بدترین خوارج نےکیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال پر شدید تشویش ہے، دہشت گردی کا کوئی مذہب یا جواز نہیں، افغان طالبان کے ترجمان کی پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی قابل مذمت ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، افغان طالبان ذمہ داری سے بھاگنےکے بجائے دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کریں، پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے افغان طالبان دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کریں۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے مطالبہ کیا کہ افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کے تحت انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرے،عالمی برادری افغان طالبان پر دباؤ ڈالےکہ وہ اس خطرے کے پورے خطے میں پھیلنے سے قبل فیصلہ کن کارروائی کریں۔

 یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ پولیس لائنز حملہ، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل، 8 دہشتگرد ہلاک

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملےکی مذمت کافی نہیں،افغان حکومت کو زبانی ہمدردی ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائیوں میں بدلنا ہوگا،  ہم مذاکرات کے نام پر اپنے عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

وزارت اطلاعات نے مزیدکہا ہےکہ پاکستان عوام اورخودمختاری کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین کے تحت ہر ضروری قدم اٹھائےگا، پاکستان دہشت گردی کے خطرات کو ہر جگہ سے ختم کرنے کا مکمل عزم اور صلاحیت رکھتا ہے ۔

 

Scroll to Top