عمران خان کی بہن علیمہ خان نے 27 ستمبر سے پہلے ہی فرمائشی گرفتاری دے دی

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج سے قبل جہاں دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں کا معاملہ سیاسی منظرنامے میں نمایاں ہورہا ہے، وہیں آج علیمہ خان کی گرفتاری بھی سامنے آگئی، جسے مخالفین طنزیہ طور پر “فرمائشی گرفتاری” قرار دے رہے ہیں۔

دو سال سے کبھی ایک شہر تو کبھی دوسرے شہر میں سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں، لیکن اب 27 ستمبر کا احتجاج قریب آیا تو گرفتاریوں کا سلسلہ بھی خبروں کا حصہ بن گیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اسے سیاسی کارروائی قرار دیا جارہا ہے، جبکہ مخالفین اسے احتجاج سے پہلے سیاسی ماحول بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

مخالفین کے مطابق یہ معاملہ صرف علیمہ خان تک محدود نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی سیاست میں احتجاج سے پہلے گرفتاریوں اور سیاسی بیانیے کو نمایاں کرنے کا انداز پہلے بھی دیکھنے میں آتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  پی ٹی آئی کے 27 ستمبر لانگ مارچ سے متعلق عدالت کا تفصیلی فیصلہ جاری

اسی تناظر میں عمران خان کے 2023 کے زمان پارک واقعے کا حوالہ بھی دیا جارہا ہے، جب ان کی ٹانگ پر پلستر کے معاملے نے خاصی سیاسی بحث کو جنم دیا تھا۔

اس وقت عمران خان کی جانب سے ٹانگ میں فریکچر کا مؤقف سامنے آیا تھا، جبکہ اس معاملے پر سیاسی مخالفین کی جانب سے مختلف دعوے اور سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔

یوں 27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے علیمہ خان کی گرفتاری نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست، گرفتاریوں اور سیاسی بیانیے کے انداز پر بحث چھیڑ دی ہے۔

Scroll to Top