اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ ہڑتالوں، دھرنوں، سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا بھاری نقصان ہو سکتا ہے جس کے براہ راست اثرات ٹیکس ریونیو، برآمدات، بیرونی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی رفتار پر پڑیں گے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے مشکل فیصلوں کے نتیجے میں ملکی معیشت کو استحکام دیا ہے اور اب تمام تر توجہ معاشی استحکام سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی پائیدار ترقی کی طرف منتقل کی جا رہی ہے، تاہم احتجاج اور سڑکوں کی بندش سے اس تمام مثبت پیشرفت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پلاننگ کمیشن کے اکنامک ونگ کے ساتھ مل کر ماضی کے تجربات اور موجودہ معاشی صورتحال کی روشنی میں کاروباری تعطل کے اثرات کا باقاعدہ تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے تحت خدمات کے شعبے کو یومیہ 86 ارب روپے، صنعتی شعبے کو روزانہ 25 ارب روپے اور زرعی شعبے کو یومیہ 9 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ معاشی سرگرمیاں رکنے سے ایف بی آر کو روزانہ کی بنیاد پر 17 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کا نقصان ہوگا۔ اس کے علاوہ جولائی اور اگست میں 811 ملین ڈالر کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ کی گئی ہیں، لیکن سڑکوں کی بندش سے اگر انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطے متاثر ہوئے تو آئی ٹی سمیت مجموعی برآمدی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی اور حالات معمول پر آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔





