فتنہ الخوارج اور گل بہادر گروپ کے ٹھکانے تباہ: پختونخوا بھر کے عوام کا پاک فوج کے جرأت مندانہ اقدام کو بھرپور خراجِ تحسین

اسلام آباد: افغانستان کی سرحد کے آر پار دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں پاکستان نے حافظ گل بہادر گروپ اور فتنہ الخوارج کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے افغانستان کے اندر بڑے فضائی حملے کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان انٹیلی جنس بیسڈ اور انتہائی درست کارروائیوں میں کم از کم اٹھائیس دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں صرف اور صرف دہشت گردوں کے کیمپوں کے خاتمے کے لیے کی گئی ہیں۔

عوام کا ردعمل اور پاک فوج کے ساتھ یکجہتی

پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے پختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول باجوڑ، پشاور، مردان، کالام، نوشہرہ، مہمند، وزیرستان، بنوں، کرک اور لکی مروت کے غیور شہریوں نے ان کارروائیوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ خودکش دھماکے میں بھی افغان شہری اور افغان سرزمین ملوث تھی۔

شہریوں کے مطابق ہمارے سیکیورٹی اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اس لیے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ناگزیر ہے۔

مقامی شہریوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے ہمیشہ کھلے دل سے افغان مہمانوں کی میزبانی کی، لیکن اس کے بدلے میں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابلِ برداشت ہے۔

عوام کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ دہشت گردی کی بیشتر کارروائیوں کی منصوبہ بندی افغانستان کے اندر بیٹھ کر کی جاتی ہے، اس لیے پاک فوج کی یہ جوابی کارروائی ایک مؤثر اور بروقت قدم ہے۔

پختونخوا کے تمام اضلاع کے عوام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

تاہم پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور حکام نے افغان ترجمان کے ان دعویٰ جات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فضائی حملے مکمل طور پر تصدیق شدہ انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھے اور ہدف صرف اور صرف عسکریت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔

پاکستان کا دو ٹوک موقف ہے کہ جب تک افغان حکومت سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کرتی، ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس طرح کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

Scroll to Top