اسلام آباد: افغانستان کی سرحد کے آر پار دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں پاکستان نے حافظ گل بہادر گروپ اور فتنہ الخوارج کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے افغانستان کے اندر بڑے فضائی حملے کیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان انٹیلی جنس بیسڈ اور انتہائی درست کارروائیوں میں کم از کم اٹھائیس دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں صرف اور صرف دہشت گردوں کے کیمپوں کے خاتمے کے لیے کی گئی ہیں۔
پاکستان جو کارروائیاں افغانستان میں کر رہا ہے، وہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، کیونکہ جب بھی پاکستان میں کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو افغانستان کی سرزمین بھی استعمال ہوتی ہے اور افغان شہری بھی ان واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ پاکستانی دفاعی ادارے انتہائی باصلاحیت… pic.twitter.com/jf9ZGZkoI6
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) September 21, 2026
عوام کا ردعمل اور پاک فوج کے ساتھ یکجہتی
پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے پختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول باجوڑ، پشاور، مردان، کالام، نوشہرہ، مہمند، وزیرستان، بنوں، کرک اور لکی مروت کے غیور شہریوں نے ان کارروائیوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ خودکش دھماکے میں بھی افغان شہری اور افغان سرزمین ملوث تھی۔
شہریوں کے مطابق ہمارے سیکیورٹی اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اس لیے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ناگزیر ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی، دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ، دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائی خوش آئند ہے، کالام کے شہریوں کی گفتگو۔ pic.twitter.com/nsyGP4OqwN
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) September 21, 2026
مقامی شہریوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے ہمیشہ کھلے دل سے افغان مہمانوں کی میزبانی کی، لیکن اس کے بدلے میں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابلِ برداشت ہے۔
عوام کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ دہشت گردی کی بیشتر کارروائیوں کی منصوبہ بندی افغانستان کے اندر بیٹھ کر کی جاتی ہے، اس لیے پاک فوج کی یہ جوابی کارروائی ایک مؤثر اور بروقت قدم ہے۔
نوشہرہ کے شہریوں کا دوٹوک مؤقف، افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں۔
40 سال تک ہم نے افغانیوں کو پناہ اور مہمان نوازی دی لیکن اس کے بدلے دہشت گردی تحفے میں ملی۔ گزشتہ رات پاک فضائیہ کی جانب سے کی گئی کارروائی خوش آئند ہے، پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی… pic.twitter.com/h3ZQhNWkLn— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) September 21, 2026
پختونخوا کے تمام اضلاع کے عوام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
تاہم پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور حکام نے افغان ترجمان کے ان دعویٰ جات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فضائی حملے مکمل طور پر تصدیق شدہ انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھے اور ہدف صرف اور صرف عسکریت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔
پاکستان کا دو ٹوک موقف ہے کہ جب تک افغان حکومت سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کرتی، ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس طرح کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔





