اعجاز آفریدی
پشاور: خیبر پختونخوا کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے مالی سال 2026-27 کے دوران دیہی علاقوں کے ویلیج کونسلز میں صفائی کے پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 1 ارب 81 کروڑ روپے سے زائد کے اضافی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی۔
جاری احکامات کے مطابق سیٹلڈ اضلاع کی ویلیج کونسلز کے لیے اضافی گرانٹ کی مد میں 1,529.320 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ رقم ویلیج کونسلز کے صفائی پروگرام کے تحت جنریٹرز/صفائی عملے کے مالی معاملات اور ایندھن و مرمت کے اخراجات کے لیے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران استعمال کی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق ایبٹ آباد کے لیے 81.170 ملین روپے، بونیر 50.980 ملین، بٹگرام 33.160 ملین، بنوں 65.390 ملین، چارسدہ 75.860 ملین، چترال 26.990 ملین، اپر چترال 16.040 ملین، لوئر دیر 80.540 ملین، ڈیرہ اسماعیل خان 62.980 ملین، پاہپُر 23.480 ملین، اپر دیر 42.360 ملین، ہنگو 28.420 ملین، ہری پور 72.200 ملین، اپر کوہستان 23.410 ملین، کرک 28.320 ملین، لوئر کوہستان 17.730 ملین، کوہاٹ 50.570 ملین، لکی مروت 53.710 ملین، مانسہرہ 88.680 ملین، ملاکنڈ 38.900 ملین، مردان 90.610 ملین، نوشہرہ 71.670 ملین، کولئی پالس 20.740 ملین، پشاور 134.990 ملین، شانگلہ 48.340 ملین، صوابی 76.950 ملین، سوات 34.600 ملین، بار سوات 36.550 ملین، تورغر 15.560 ملین اور ٹانک 38.420 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دوسرے حکم کے تحت ضم شدہ اضلاع کی ویلیج کونسلز کے لیے بھی 280.680 ملین روپے کی اضافی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے یوسین بولٹ کا 100 میٹر ریکارڈ توڑ دیا
اس رقم کا مقصد بھی مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ویلیج کونسلز کے صفائی پروگرام کے لیے جنریٹرز کی تنخواہوں اور ایندھن و مرمت کے اخراجات پورے کرنا ہے۔
ضم شدہ اضلاع میں باجوڑ کے لیے 67.450 ملین روپے، خیبر 63.870 ملین، کرم 26.900 ملین، مہمند 32.040 ملین، شمالی وزیرستان 33.150 ملین، اورکزئی 16.160 ملین، جنوبی وزیرستان لوئر 17.590 ملین اور جنوبی وزیرستان اپر 23.520 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق دونوں مدوں میں منظور شدہ رقم دوبارہ تخصیص (Re-appropriation) کے ذریعے فراہم کی گئی ہے اور متعلقہ اضلاع کی ویلیج کونسلز کے لیے مختص فنڈز ان کے مقررہ بینک اکاؤنٹس میں منتقل یا کریڈٹ کیے جائیں گے۔
احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ فنڈز کا استعمال متعلقہ قواعد و ضوابط اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ رقم کی ضلع وار تقسیم کے مطابق ویلیج کونسلز کو منتقل کی جائے گی۔





