ایمل ولی خان کا خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیم پر ردعمل

ایمل ولی خان کا خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیم پر ردعمل

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترامیم پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2017ء میں واحد اے این پی تھی جو اس پولیس ایکٹ کی مخالفت کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف روز اول سے واضح تھا کہ تمام اختیارات کسی فردِ واحد کو تفویض کرنا پولیس فورس میں بہتری لانے کے بجائے مزید بگاڑ کا سبب بنے گا، جبکہ اس ایکٹ کے تحت صوبے کے کوٹے پر دوسرے صوبوں کے افسران کی پروموشن کی بھی مخالفت کی گئی تھی۔

اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے آج جو بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اگر انہیں عدالت میں چیلنج کیا گیا تو عدالت ان غیر قانونی ترامیم کو اڑا کر رکھ دے گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مجوزہ ترمیم بظاہر پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 11(1) اور قابلِ اطلاق پی ایس پی کیڈر رولز اور ایسٹاکوڈ کی روح سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی جبکہ آئی جی کی واپسی یا ریپیٹری ایشن کے معاملے میں وفاقی حکومت کو بھی مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت کو ایسے غیر قانونی مشورے کون دے رہا ہے۔

ایمل ولی خان نے پی ٹی آئی کی سابقہ پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پولیس ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد عمران خان جلسوں میں دعوے کرتے تھے کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر دیا گیا ہے لیکن آج کے اقدامات سے ان کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کابینہ نئے پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی

انہوں نے پوچھا کہ کیا یہی وہ نام نہاد پولیس اصلاحات تھیں جن کا عوام سے وعدہ کیا جاتا تھا؟

Scroll to Top