گورنرفیصل کریم کنڈی کا مجوزہ پولیس ایکٹ پر شدید ردعمل،آئین سے متصادم قراردے دیا

گورنرفیصل کریم کنڈی کا مجوزہ پولیس ایکٹ پر شدید ردعمل،آئین سے متصادم قراردے دیا

گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی سمیت دیگر اقدامات قابل اعتراض ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے جو پولیس ایکٹ منظور کیا ہے وہ ان کے نزدیک آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایکٹ جب منظوری کے لیے ان کے پاس آئے گا تو وہ اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور اگر اس میں کوئی غیر آئینی شق ہوئی تو اس پر اعتراض کیا جائے گا۔

گورنر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف رہا ہے کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے تاہم موجودہ اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس کو حکومت کے تابع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس کو اپنی سیاسی ضروریات کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے ، پولیس کو کسی سیاسی جماعت کی فورس نہیں بننے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر یا وزیراعلیٰ سمیت کوئی بھی شخص ایسا اقدام نہیں کرسکتا جو آئین اور قانون کے خلاف ہو، ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں ڈی ایس پی کی سطح پر بھی کوٹے کے ذریعے تقرریاں کرنے کی تجاویز قابل غور ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں مستقل وزیر داخلہ موجود نہیں اور اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے پولیس کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کرنا سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد پولیس کے حوالے سے ایسی روایت موجود نہیں، اس لیے وہ کسی ایسے قانون کی منظوری نہیں دیں گے جو آئینی اور قانونی تقاضوں پر پورا نہ اترتا ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد جانے کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے سرکاری وسائل استعمال کیے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت کی جانب سے بھی سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال سے متعلق احکامات موجود ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈی چوک میں الٹے لٹک جائیں ان کا لیڈر ایسے آزاد نہیں ہوگا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کی اطلاعات کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔انہوں نے پی ٹی آئی کی اسلام آباد جانے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر جانی نقصان ہو رہا ہے، اس لیے حکومت کو پہلے صوبے کے حالات پر توجہ دینی چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کے امکان پر بھی بات کی ان کا کہنا تھا کہ آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے اور اگر وفاقی حکومت حالات کا جائزہ لینے کے بعد اسے نافذ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو آئینی طریقہ کار کے تحت ایسا کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 قانونی تنازع کا شکار، پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاریاں

انہوں نے کہا کہ صوبے کی صورتحال کا جائزہ وقتاً فوقتاً لیا جاتا ہے اور اگر صدر مملکت اور وفاقی حکومت یہ سمجھیں کہ گورنر راج ضروری ہے تو پھر آئینی اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے

Scroll to Top