ارکان اسمبلی کی گرفتاری سے متعلق خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کا آئی جی کو اہم مراسلہ

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے ارکان اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے متعلق اہم مراسلہ جاری کردیا، رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دے دیا گیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے ارکان اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے متعلق طریقہ کار پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمیدخیبرپختونخوا کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کردیا ہے۔

مراسلے میں خیبرپختونخوا پروونشل اسمبلی پاورز، امیونٹیز اینڈ پریولیجز ایکٹ 2026 کی دفعہ 11 پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

مراسلے کے مطابق کسی رکن اسمبلی کو فوجداری مقدمے یا کسی جرم کے الزام میں گرفتار کرنے سے قبل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ اسی طرح کسی رکن اسمبلی کو ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حراست میں لینے سے پہلے بھی اسپیکر کی اجازت لازمی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : عدالتی حکم کی تعمیل: پی ٹی آئی مارچ کے لیے خیبرپختونخوا پولیس کی معاونت پر مکمل پابندی عائد، آئی جی آفس سے مراسلہ جاری

اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق رکن اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کی وجوہات سے اسپیکر کو آگاہ کرنا ہوگا، جبکہ اس مقصد کے لیے مقررہ فارم کے ذریعے اسپیکر کو درخواست جمع کرائی جائے گی۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر عوامی مفاد میں متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان طلب کرسکتے ہیں۔ اسپیکر عدالت میں چالان جمع ہونے سے قبل معاملے کی انکوائری بھی کراسکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ارکان اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کے معاملات میں مقررہ قانونی طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی سے متعلق گرفتاری یا حراست کے تمام معاملات میں خیبرپختونخوا پروونشل اسمبلی پاورز، امیونٹیز اینڈ پریولیجز ایکٹ 2026 کی متعلقہ شقوں کو مدنظر رکھا جائے۔

Scroll to Top