پشاور: سوشل میڈیا پر جاری ایک تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے مختلف ادوار میں خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کے آبائی یا انتخابی علاقوں میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کے حوالے سے سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پرویز خٹک کے دور میں نوشہرہ، محمود خان کے دور میں مٹہ سوات اور علی امین گنڈاپور کے دور میں ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی سے متعلق واقعات خبروں کا حصہ بنتے رہے۔
موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے حلقے میں دہشتگردی کے ساتھ منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق اس متن میں فراہم نہیں کی گئی۔
تجزیے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ترجیحات پر بھی تنقید کی گئی ہے اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ صوبے میں امن و امان اور عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی وابستگی کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔
تحریر میں سہیل آفریدی کے بعض بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سیاسی کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی، پولیس اور سکیورٹی اداروں کی استعداد بڑھانے اور صوبے میں امن و امان کے قیام پر زیادہ توجہ درکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پختونخوا میں رواں سال دہشتگردی کے 2,456 واقعات رپورٹ، 472 افراد شہید، وزیر اطلاعات و نشریات
کوہاٹ کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیے میں دعویٰ کیا گیا کہ مرکز، پنجاب اور دیگر علاقوں سے حکام اور نمائندے خیبر پختونخوا پہنچے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس دوران پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
تحریر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہٹانے سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف کی رائے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے بہتری کا باعث ہوسکتی ہے۔
تجزیے کے اختتام پر سہیل آفریدی کی انتظامی کارکردگی، سیاسی ترجیحات اور امن و امان سے متعلق اقدامات پر مزید سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے عہدے سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔





