پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی کی سہولت کاری کا الزام، پختونخوا حکومت کی ترجیحات پر سوال، تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے امن و امان کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیٹر زاہد خان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف، تحریک طالبان پاکستان کی سہولت کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور دہشتگرد تنظیموں کے درمیان مبینہ روابط کے معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

 

زاہد خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے باعث عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں، صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے امن و امان کی بحالی، دہشتگردی کے خاتمے اور پولیس و سکیورٹی فورسز کے استحکام پر توجہ دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :  سہیل آفریدی کےجوکر نما کرتوتوں نے پی ٹی آئی کو سیاسی 9 مئی سے دوچار کر دیا، طلعت حسین

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں، اس معاملے پر صوبائی حکومت کو واضح پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومت، پولیس اور سکیورٹی فورسز کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے۔

پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پولیس صوبے کا فخر ہے۔ ان کے مطابق پولیس سے متعلق قانون میں صوبائی حکومت کی جانب سے ہنگامی ترامیم کا مقصد اور طریقہ کار قابلِ سوال ہے۔

ثمر ہارون بلور نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو مزید اختیارات، وسائل اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ دہشتگردی کا مؤثر مقابلہ کرسکے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : دہشتگردی سے پختونخوا پریشان، ٹی ٹی پی کا خطرہ برقرار، سہیل آفریدی اسلام آباد چڑھائی کیلئے سرگرم

لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم دہشتگردی کے خلاف قومی سطح پر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے اور ریاستی اداروں کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔

رہنماؤں نے حالیہ لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ان سرگرمیوں کو بھرپور پذیرائی نہیں دی۔ ان کے بقول عوام امن، استحکام اور معاشی ترقی چاہتے ہیں اور ایسی سرگرمیوں کے حق میں نہیں جو صوبے میں مزید بے یقینی پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات اور ملکی سرحدوں کی حفاظت قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کو مکمل سیاسی، انتظامی اور مالی معاونت فراہم کرنا ہوگی۔

ن لیگی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان، دہشتگردی کے نیٹ ورک، مبینہ سہولت کاری اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق معاملات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

Scroll to Top