بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے مستحق خواتین کو دھوکہ دہی اور فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے مفت سمز کے حصول کا باضابطہ اور محفوظ طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔
انتظامیہ نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ خواتین یہ سم کسی ریٹیلر، فرنچائز یا عام دکاندار کے بجائے صرف اور صرف بی آئی ایس پی کے سرکاری دفاتر سے حاصل کریں۔
بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی جانب سے مستحق خواتین کی سہولت اور رہنمائی کے لیے خصوصی معلوماتی پیغام جاری کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق مستحق خواتین اپنی مفت سم کے حصول کے لیے قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے رجوع کریں۔ اس عمل کو باآسانی مکمل کرنے کے لیے خواتین کے پاس اپنا اصل قومی شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے جعل سازی اور فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر خبردار کیا ہے کہ مستحقین کسی غیر متعلقہ شخص یا غیر مجاز نمائندے سے ہرگز رابطہ نہ کریں اور نہ ہی کسی فرنچائز یا ریٹیلر سے سم وصول یا ایکٹیویٹ کروائیں۔ سم کی فراہمی اور ایکٹیویشن کا تمام تر عمل صرف اور صرف بی آئی ایس پی کے قائم کردہ سرکاری دفاتر کے اندر سرانجام دیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی خرد برد کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی
واضح رہے کہ سال 2008 میں شروع کیا جانے والا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام حکومت پاکستان کا اہم سماجی فلاحی منصوبہ ہے جو لاکھوں نادار خاندانوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانے اور مستحقین تک رقوم کی براہ راست و محفوظ ترسیل کے لیے مفت سمز کی فراہمی کا اقدام اٹھایا گیا ہے تاکہ خواتین کو مڈل مین اور جعل سازوں کی لوٹ مار سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔





