دل کی صحت کا عالمی دن :ہارٹ اٹیک سے ایک ماہ قبل ظاہر ہونے والی علامات جانیے

کسی بھی فرد کو ہارٹ اٹیک کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب دل کی جانب خون کا بہاؤ بہت زیادہ گھٹ جائے یا مکمل طور پر بلاک ہو جائے۔ عموماً شریانوں میں چکنائی، کولیسٹرول اور دیگر مواد کے اجتماع کے باعث دل تک خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ اس اجتماع کو پلیک کہا جاتا ہے اور اکثر اس کے باعث بننے والے بلڈ کلاٹ سے خون کی فراہمی رک جاتی ہے۔

ہر سال 29 ستمبر کو دنیا بھر میں دل کی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد عوام کو امراضِ قلب کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ ہارٹ اٹیک کی انتباہی علامات سے بروقت آگاہی کے باعث فوری طبی امداد حاصل کی جا سکتی ہے، جس سے مریض کی جلد اور مکمل صحتیابی کے امکانات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔

اگرچہ عام طور پر ہارٹ اٹیک اچانک ہی پیش آتا ہے، مگر کئی بار اس سے کئی ہفتے پہلے ہی ایسی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو دل کے دورے کا واضح اشارہ ہوتی ہیں۔ سینے میں تکلیف جیسی مخصوص علامات سے فوری طور پر معالج اور طبی امداد کے لیے رجوع کرنے کی ضرورت کا عندیہ ملتا ہے۔

خواتین پر کی گئی ایک خاص طبی تحقیق کے مطابق کئی علامات ہارٹ اٹیک سے ایک ماہ پہلے ہی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق میں غیر معمولی نوعیت کی تھکاوٹ، شددید نقاہت، نیند کا مسلسل متاثر ہونا، سانس لینے میں مشکلات اور سینے میں بے چینی جیسی علامات کو ابتدائی انتباہی اشارے قرار دیا گیا ہے۔

امریکا کے نامور کلیو لینڈ کلینک نے بھی ایسی ابتدائی علامات کی نشاندہی کی ہے جنہیں اکثر لوگ عام سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان علامات میں سینے پر دباؤ یا تنگی کا احساس، بازو، جبڑے، گردن یا کمر میں درد، ٹھنڈے پسینے آنا، سینے میں جلن، سانس پھولنا، قے یا متلی اور غیرمعمولی تھکاوٹ شامل ہیں۔

ہارٹ اٹیک کی علامات ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہیں، جہاں کچھ لوگوں میں ان کی شدت معتدل ہوتی ہے تو کچھ میں بہت زیادہ شدید ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ افراد میں پہلے سے کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور انہیں بالکل اچانک ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مجموعی طور پر سینے میں دباؤ کے احساس کے ساتھ تکلیف، شدید کمزوری، اچانک سر چکرانا، غشی طاری ہونا یا ذہن پر قابو نہ رہنا اور سانس لینے میں دشواری اس مرض کی اہم نشانیوں میں شامل ہیں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سینے میں تکلیف مردوں اور خواتین دونوں میں رپورٹ ہونے والی سب سے عام علامت ہے۔ تاہم خواتین میں چند مختلف علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے گردن، بازو یا کمر میں شدید درد ہونا یا ایسا محسوس ہونا جیسے سوئیاں چبھ رہی ہوں۔

عمر یا جنس سے قطع نظر ہر فرد اس مرض سے متاثر ہو سکتا ہے اور موجودہ دور میں 40 سال سے کم عمر افراد میں بھی ہارٹ اٹیک کے کیسز کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ موٹاپا، ذیابیطس، تمباکو نوشی، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور خاندانی ہسٹری اس کا خطرہ بڑھانے والے اہم عناصر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : یہ صرف میڈیا پر بڑھکیں مارتے ہیں، 4 اکتوبر کو بھی مارچ نہیں کر سکتے، گورنر فیصل کریم کنڈی

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

Scroll to Top