افغان طالبان رجیم کے نام نہاد وزیر برائے سرحدات کی الزام تراشی پر پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چند افغان رہنما پیسوں کے لالچ میں ہندوتوا کے ناپاک عزائم کی پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں کہا گیا ہےکہ افغان طالبان حکومت کےسرحدی امور کے وزیر اور دیگر ترجمانوں کی جانب سے نورستان میں ہونے والی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کی حالیہ کوششیں محض خود ساختہ اور جھوٹے بیانات ہیں، جن کا مقصد افغانستان میں اندرونی بغاوت، ظلم اور عدم استحکام سے توجہ ہٹانا ہے۔
وزارت اطلاعات کا مزید کہنا ہےکہ افغان طالبان کی موجودہ حکومت غیر نمائندہ ہے جو افغان عوام پر بزور طاقت مسلط کی گئی ہے، افغان حکومت کے مضحکہ خیز بیانات دراصل ان کی اپنی اندرونی ناکامیوں اور مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق چند افغان رہنما پیسوں کے لالچ میں ہندوتوا کے ناپاک عزائم کی پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں،افغان طالبان کا دہشت گردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کرنا غیر اسلامی عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نورستان سے متعلق افغان طالبان حکومت کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت قرار، پاکستان نے تمام دعوے مسترد کر دیے
وزارت اطلاعات کا کہنا ہےکہ پیسوں کی خاطر خطےکو عدم استحکام کا شکارکرنے کی پالیسی افغان طالبان کو خود تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کا کرائےکے ایجنٹوں والا یہ طرز عمل افغانستان کو تباہی کے راستے پر لے جا رہا ہے جو عزت و وقار سے مکمل طور پر عاری ہے۔





