وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے خیبر پختونخوا کی سیاسی و انتظامی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں بدامنی اور مافیاز کے راج کے مقابلے میں گورنر راج نافذ کرنا ہزار درجے بہتر آپشن ہے۔
پختون ڈیجیٹل کے پوڈ کاسٹ گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی کا کہنا تھا کہ جمہوری لوگ اور حکومت نہ تو گورنر راج پسند کرتے ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی جیسے اقدامات کے حامی ہیں، لیکن جب صورتحال حد سے بڑھ جائے تو سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹو اور وزیراعلیٰ دہشت گردوں، منشیات مافیا، اسمگلروں، گاڑی چوروں اور قبضہ مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ بنا لے تو ایسی حالت میں غنڈہ راج سے گورنر راج ہزار درجہ بہتر ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ عوام سڑکوں پر نکل رہی ہے اور کہا کہ صرف وہ لوگ باہر آتے ہیں جن کے ذاتی مفادات اس صورتحال سے وابستہ ہیں۔
27 ستمبر کی احتجاجی کال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ غلط ثابت ہوا اٹک اور مارگلہ کے سوا لاہور، کشمیر، کراچی اور کوئٹہ تک تمام راستے کھلے رہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کا گراف ختم ہو چکا ہے اور یہ پارٹی اب صرف خیبر پختونخوا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اختیار ولی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگ صرف سرکاری پیسے، سیکیورٹی اور ذاتی فائدے و ٹھیکوں کے بل بوتے پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پاس اب کوئی حقیقی عوامی حمایت نہیں بچی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اب ایک سیاسی جماعت نہیں رہی کیونکہ اس کا طرزِ عمل اور گٹھ جوڑ سیاسی جماعتوں والا نہیں ہے۔





