صوبے کے امن کو سیاسی ضد کی نذر کردیا، سہیل آفریدی کی حکمت عملی پر خیبرپختونخوا عوام کا شدید ردعمل

پشاور: خیبرپختونخوا میں جاری بدامنی، دہشتگردی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات پر عوام کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وفاق کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔

لنڈی کوتل عوام کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی طویل صوبائی حکمرانی کے دوران صوبے میں بدحالی، بے روزگاری اور لاقانونیت کے مسائل پر مؤثر توجہ نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار اور بہتر مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو وہ منشیات، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کی طرف جانے کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے عوام نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت سیاسی محاذ آرائی کے بجائے وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسری جانب حالیہ مذاکرات میں بھی انسدادِ دہشتگردی کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں انسدادِ دہشتگردی سے متعلق طے شدہ وعدوں سے دستبرداری اختیار کی۔

ان کے مطابق معاہدے میں دہشتگردوں کو صوبے میں محفوظ ٹھکانے فراہم نہ کرنے، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی مذمت، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، انسدادِ دہشتگردی کے لیے فنڈز اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون بڑھانے سمیت مختلف نکات شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں : امن کیلئے شرائط سامنے آئیں تو کے پی حکومت نے قدم پیچھے کھینچ لیا، محسن نقوی

خیبر پختونخوا عوام کا کہنا ہے کہ صوبہ پہلے ہی دہشتگردی کے سنگین چیلنج سے دوچار ہے، ایسے میں سیکیورٹی معاملات کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح صوبے میں امن، عوام کا تحفظ اور ترقی ہونی چاہیے۔

صوبے سمیت بھرسوات اور شمالی علاقوں میں ٹمبر مافیا کی مبینہ سرگرمیوں اور غیر قانونی کٹائی کے الزامات پر شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتی جنگلات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور اگر کسی سیاسی یا حکومتی شخصیت کی سرپرستی کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

خیبرپختونخوا کے عوام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی، لاقانونیت، بے روزگاری اور قدرتی وسائل کے تحفظ جیسے مسائل فوری توجہ چاہتے ہیں، اس لیے سیاسی کشمکش کے بجائے صوبے کے امن، معیشت اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

Scroll to Top