اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی جانب سے شروع کیے گئے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے انتظامات گنڈی چوک لکی مروت میں دھرے کے دھرے رہ گئے، جہاں مقامی قیادت کی عدم موجودگی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث کارکنان میں مایوسی نظر آئی۔
پختون ڈیجیٹل نمائندے کی مطابق گنڈی چوک لکی مروت سے دی گئی رپورٹ کے مطابق احتجاجی مقام پر مختلف علاقوں سے بڑے قافلوں کی آمد کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم زمینی صورتحال ان دعوؤں سے مختلف دکھائی دی۔ موقع پر ضلعی قیادت کی جانب سے کارکنان کے لیے خاطر خواہ انتظامات نظر نہیں آئے۔
رپورٹ کے مطابق کھلے آسمان تلے کارکنان کے لیے نہ مناسب ٹینٹ موجود تھے، نہ دھوپ سے بچاؤ کے لیے سایہ دار جگہ اور نہ ہی بیٹھنے کے لیے مناسب کرسیاں فراہم کی گئی تھیں۔ مقامی قیادت کی عدم موجودگی نے بھی کارکنان کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔
موقع پر موجود کارکنان نے انتظامات اور قیادت سے متعلق شکوے بھی کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مارچ کے حوالے سے یقین دہانیاں تو کرائی گئیں، تاہم عملی طور پر بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کی گئیں۔ کارکنان کی محدود تعداد کے باعث بھی احتجاجی سرگرمی کی شدت کم دکھائی دی۔
دوسری جانب دہشتگردی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلے میں کے پی حکومت انسدادِ دہشتگردی سے متعلق طے شدہ وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی، جس کے بعد مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں : صوبے کے امن کو سیاسی ضد کی نذر کردیا، سہیل آفریدی کی حکمت عملی پر خیبرپختونخوا عوام کا شدید ردعمل
محسن نقوی کے مطابق مجوزہ معاہدے میں دہشتگردوں کو صوبے میں آزادانہ کارروائی یا محفوظ ٹھکانے فراہم نہ کرنے، دہشتگرد گروہوں کی مذمت، انسدادِ دہشتگردی کے لیے فنڈز، مسلح افواج سے تعاون بڑھانے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سمیت مختلف اقدامات شامل تھے۔
خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے باعث صوبے میں امن و امان کا مسئلہ پہلے ہی سنگین ہے۔ ایسے حالات میں لانگ مارچ کے اعلان اور وفاق کے ساتھ انسدادِ دہشتگردی کے معاملات پر اختلاف نے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔
گنڈی چوک لکی مروت کی صورتحال نے پی ٹی آئی کے تنظیمی انتظامات اور لانگ مارچ کے لیے مقامی سطح پر تیاریوں کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کارکنان کی کم تعداد، قیادت کی عدم موجودگی اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے احتجاجی مہم کی زمینی صورتحال واضح کردی۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صوبے کے عوام کے لیے امن و امان، دہشتگردی کے خاتمے اور بنیادی سہولیات جیسے مسائل زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ سیاسی قیادت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ احتجاجی سیاست کے ساتھ ساتھ صوبے کے ان بنیادی مسائل پر بھی مؤثر توجہ کیسے دی جائے۔





