اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی عاصمہ ارباب عالمگیر نے پاکستان تحریک انصاف پر دہشتگردوں اور ڈرگ مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ اور خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے لیے مختص فنڈز کے سیاسی استعمال کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاصمہ ارباب عالمگیر نے کہا ہےکہ گزشتہ 17 برس کے دوران این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو انسدادِ دہشتگردی کے لیے 700 ارب روپے سے زائد فراہم کیے گئے، تاہم ان کے بقول اگر یہ رقم حقیقی معنوں میں امن و امان پر خرچ کی جاتی تو صوبے میں دہشتگردی کی موجودہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
پیپلز پارٹی رہنما نے الزام عائد کیا کہ یہ وسائل عوامی تحفظ کے بجائے پی ٹی آئی کے لانگ مارچز اور سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے ان فنڈز کے استعمال کی شفاف تحقیقات اور مکمل آڈٹ کریں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
عاصمہ ارباب عالمگیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل دورِ حکومت کے دوران صوبے کو دہشتگردی، بدامنی اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر کالعدم تنظیموں اور ڈرگ مافیا سے مبینہ روابط کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں نے بھاری قربانیاں دی ہیں، ایسے میں سیاسی احتجاج کو ترجیح دینا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : اپر وزیرستان میں پی ٹی آئی کارکنان کی شرپسندی شروع، پولیس پر براہِ راست فائرنگ، حالات کشیدہ
رکن قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحفظ کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں، تاہم پی ٹی آئی حکومت نے انہیں لینے سے انکار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سیکیورٹی اہلکاروں کو مطلوبہ وسائل اور تحفظ فراہم کیا جاتا تو جانی نقصان کم کیا جاسکتا تھا۔
عاصمہ ارباب عالمگیر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے بھی سوال کیا کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کی اولین ترجیح سیاسی احتجاج ہے یا دہشتگردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کو درپیش دہشتگردی کے مسئلے کے حل کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی اور انسدادِ دہشتگردی کے لیے مختص وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔
واضح رہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے متاثرہ صوبہ ہونے کے باعث قابلِ تقسیم محاصل میں اضافی ایک فیصد حصہ دیا جاتا ہے۔





