وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی لاہور سے پشاور پہنچ گئے ہیں ۔
زرائع کے مطابق وزیرداخلہ پشاور اہم ملاقاتیں کریں گے۔ذرائع کا مذید کہنا ہے کہ محسن نقوی گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے بھی ملاقات کریں گے۔
پشاور روانگی سے قبل لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو مذاکرات کی تمام تر صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔
انہوں نےکہاکہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم میں شامل بیرسٹر گوہر، ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم اور عامر ڈوگر نے نیک نیتی سے بات چیت کی اور ڈرافٹ فائنل بھی ہو چکا تھا تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آخری وقت میں تبدیلیوں کا مطالبہ کر کے پورے عمل کو سبوتاژ کر دیا۔
محسن نقوی کے مطابق ناسمجھ لوگوں کو عہدے دینے کا انجام یہی نکلتا ہے اور اگر نتائج سہیل آفریدی نے ہی طے کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے تھا، اب لانگ مارچ یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے میں اگر ایک بھی جان گئی تو اس کے براہ راست ذمہ دار سہیل آفریدی ہوں گے۔
محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جنگ جیسا ماحول ہے اور وزیراعلیٰ فوج کے خلاف بیانات دے رہے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں کہیں نہ کہیں دہشت گردوں کو سرپرستی مل رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اب اسلام آباد پر بار بار چڑھائی کے سلسلہ کا خاتمہ کرے گی، لانگ مارچ کرنے والوں اور توہین عدالت کے مرتکب افراد کے خلاف خیبرپختونخوا کے اندر جا کر بھی کارروائی کی جائے گی اور 9 مئی جیسی صورتحال کو کسی صورت دوبارہ پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے تمام مذاکرات اب ختم ہو چکے ہیں اور اب صدر مملکت اور وزیراعظم جو بھی آئینی و انتظامی فیصلہ کریں گے اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔





