عمران خان خیبرپختونخوا میں دہشتگردی لے کر آئے اور دہشت گردوں کو صوبے میں بسانے کے سب سے بڑے حامی تھے، وزیر دفاع خوجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال پر صوبائی حکومت اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں دہشت گردی لے کر آئے اور دہشت گردوں کو صوبے میں بسانے کے سب سے بڑے حامی تھے۔

خواجہ آصف نے سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے معصوم شہداء کی بات کرنے سے پہلے یہ بتایا جائے کہ کیا وہ کسی ایک شہری شہید کے گھر فاتحہ خوانی کے لیے بھی گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے۔

 

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی جانب سے دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا میں بسانے کی حمایت اسمبلی تقاریر اور میڈیا ریکارڈ سے ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر سہیل آفریدی کو ٹی وی پر براہِ راست مناظرے کا چیلنج بھی دیا۔

خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ مرکز میں اقتدار سے محرومی کے بعد خیبرپختونخوا کے ہر وزیراعلیٰ نے وفاق کے خلاف محاذ آرائی کی، جبکہ 9 مئی کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔ انہوں نے صوبائی سیاسی قیادت پر سرکاری وسائل کی مبینہ لوٹ مار اور دہشت گردوں کو بھتہ دینے کے الزامات بھی عائد کیے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بہنے والے خون کی ذمہ داری سے سیاسی قیادت خود کو الگ نہیں کر سکتی اور عوام ان سے حساب لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جلسوں اور شہروں پر چڑھائی کرکے عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکتی، وزیر قانون

اسلام آباد کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت پاکستان کی وحدت اور وفاق کی علامت ہے اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے شہداء نے اپنے خون سے پاکستان کی حفاظت اور بقا میں کردار ادا کیا ہے۔

خواجہ آصف نے پاکستانی عوام اور مسلح افواج کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام ’’پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘‘ کے نعرے پر کیا۔

Scroll to Top