پشاور: خیبرپختونخوا میں بڑھتی بدامنی اور دہشتگردی کے واقعات پر شہریوں نے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی توجہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے دھرنوں اور احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ تعلیم، صحت اور سڑکوں سمیت کسی بھی شعبے میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آرہی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے عوامی مسائل اور امن و امان کے قیام پر توجہ دینی چاہیے۔
سہیل آفریدی وزارتِ اعلیٰ کے قابل نہیں، ان کی پوری توجہ دھرنوں پر مرکوز ہے۔ وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کرے، پختونخوا کے شہریوں کی وزیراعلیٰ پر تنقید https://t.co/MXoIqUkamr
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) October 5, 2026
شہریوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور صورتحال کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ بعض شہریوں نے وزیراعلیٰ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس عہدے کے اہل نہیں ہیں۔
شہریوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت سے وابستہ بعض عناصر اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے عوام میں نفرت اور انتشار کو ہوا دے رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے دہشتگردی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور شہریوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق بھی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ورکر سڑکوں پر اسلحہ بردار، لیڈر بم پروف بلٹ پروف گاڑیوں میں چوہوں کی طرح چھپے ہوئے، خواجہ آصف
شہریوں کا کہناہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے مارچ کے آغاز سے قبل بڑے عوامی اجتماع اور لاکھوں افراد کی شرکت کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم عملی طور پر صورتحال ان دعوؤں کے برعکس دکھائی دی۔
مخالفین کے مطابق لانگ مارچ میں عوام کی متوقع بڑی تعداد شریک نہیں ہوئی اور مختلف مقامات پر سڑکوں اور شاہراہوں پر مطلوبہ عوامی ردعمل نظر نہیں آیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ عوام نے احتجاجی اور محاذ آرائی کی سیاست میں شامل ہونے سے گریز کیا، جس کے باعث پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق کیے گئے دعوے پورے نہیں ہوسکے۔
خیبر پختونخوا عوام نےپی ٹی آئی کے احتجاجی ایجنڈے کو سیاسی ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے اس طرز سیاست کو مسترد کردیا ہے۔





