ورکر سڑکوں پر اسلحہ بردار، لیڈر بم پروف بلٹ پروف گاڑیوں میں چوہوں کی طرح چھپے ہوئے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکن سڑکوں پر اسلحہ لے کر موجود ہیں جبکہ ان کے لیڈر بم پروف اور بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

سماجی رابطہ ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر خواجہ آصف نے کہاہےکہ عدالت کے احکامات اور عائد کردہ شرائط کی کھلی خلاف ورزی کی گئی، ہیلی کاپٹر اور سرکاری وسائل استعمال کیے گئے جبکہ اسلحہ بردار جلوس بھی نکالے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لیڈر دلیر ہو اور اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہو تو وہ بھی شانہ بشانہ موجود ہوتا ہے۔

وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز بھی ہوجائیں تو عدالت کے احکامات اور طے شدہ شرائط کا احترام کرنے کی کیا ضمانت ہوگی۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر سب کا اتفاق اور اس کا احترام موجود ہے، تاہم پی ٹی آئی اس پر رضامند نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی، ڈی آئی خان میں 3 دہشت گرد ہلاک

خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان سے ڈرون حملہ ہو یا دہشتگردی کا کوئی واقعہ، جس میں فوج، پیرا ملٹری یا پولیس کے اہلکار شہید ہوں، پی ٹی آئی کی جانب سے نہ مزاحمت نظر آتی ہے اور نہ ہی مذمت۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو غزنی سے باہر نکل کر دیکھنا ہوگا۔

وزیر دفاع نے مزیدکہا ہےکہ پی ٹی آئی کی قیادت اندر سے اس بات پر راضی ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں رہیں جبکہ وہ خود حکومتی وسائل، پروٹوکول اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے نام پر جمع ہونے والے وسائل میں سے بھی مبینہ طور پر حصہ لیا جارہا ہے۔

خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے معاملے پر پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے کے معصوم شہداء کے حوالے سے بات کرنے والوں کو شہری شہداء کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت سے پوچھا جائے کہ کیا وہ کسی ایک سولین شہید کے گھر فاتحہ خوانی کے لیے بھی گئی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی عمران خان کے دور میں آئی اور وہ صوبے میں دہشتگردوں کو بسانے کے سب سے بڑے حامی تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اسمبلی کی تقاریر اور میڈیا کا ریکارڈ اس حوالے سے موجود ہے اور وہ اس معاملے پر ٹی وی پر مناظرے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک

ان کا مزید کہنا تھا کہ مرکز سے اقتدار جانے کے بعد خیبرپختونخوا کے ہر وزیراعلیٰ نے وفاق پر حملہ کیا، جبکہ 9 مئی کا واقعہ اس کے علاوہ ہے۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت پر کڑی تنقید کیا کہ وہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو بھتہ اور حصہ بھی دیتی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بہنے والے خون کے معاملے پر ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے اور ان کے بقول قوم اور خدا دونوں اس کا حساب لیں گے۔

وزیر دفاع نے اسلام آباد کو پاکستان کی وحدت اور وفاق کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 25 کروڑ پاکستانیوں کی شناخت ہے اور ملک کے شہداء اپنے مقدس خون سے اس کی آبیاری کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک سال قبل اپنے ازلی دشمن کا غرور خاک میں ملایا، جبکہ پاکستانی عوام اور بہادر افواج اندرونی و بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ خواجہ آصف نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ان شاء اللہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔

Scroll to Top