وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکن سڑکوں پر اسلحہ لے کر موجود ہیں جبکہ ان کے لیڈر بم پروف اور بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
سماجی رابطہ ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر خواجہ آصف نے کہاہےکہ عدالت کے احکامات اور عائد کردہ شرائط کی کھلی خلاف ورزی کی گئی، ہیلی کاپٹر اور سرکاری وسائل استعمال کیے گئے جبکہ اسلحہ بردار جلوس بھی نکالے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لیڈر دلیر ہو اور اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہو تو وہ بھی شانہ بشانہ موجود ہوتا ہے۔
ورکر سڑکوں پہ اسلحہ بردار اور دلیر لیڈر بم پروف بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں میں چوہوں کیطرح چھپے ھوۓ۔
عدالت کے حکم کی کھلی خلاف ورزی ھیلی کاپٹر و سرکاری وسائل کا استعما ل اور اسلحہ بردار جلوس۔ لیڈر دلیر ھو، دو نمبر مال کھاؤ نہ ھو تو وہ ورکر کے ساتھ شانہ بہ شانہ ھوتا ھے ۔
عدالت کے حکم اور شرائط کی کھلی خلاف ورزی۔اگر مذ اکرات اگر نتیجہ خیز بھی ھوتے بھی تو احترام کی کیا ضمانت؟
نیشنل ایکشن پلان جس پہ سب کا اتفاق اور احترام اس پہ pti راضی نہیں ۔
افغانستان سے ڈرون اٹیک ھوتا ھ یا دھشت گردی ، شہادتیں فوج ، پیرا ملٹری یا پولیس کی ھوں ۔نہ مزاحمت نہ مذمت۔
کہتے تھے حملہ سومنات پہ ھوگا یہ اسلام آباد ھے یہ غزنی سے تو باھر نکلیں ۔— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 5, 2026
وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز بھی ہوجائیں تو عدالت کے احکامات اور طے شدہ شرائط کا احترام کرنے کی کیا ضمانت ہوگی۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر سب کا اتفاق اور اس کا احترام موجود ہے، تاہم پی ٹی آئی اس پر رضامند نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی، ڈی آئی خان میں 3 دہشت گرد ہلاک
خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان سے ڈرون حملہ ہو یا دہشتگردی کا کوئی واقعہ، جس میں فوج، پیرا ملٹری یا پولیس کے اہلکار شہید ہوں، پی ٹی آئی کی جانب سے نہ مزاحمت نظر آتی ہے اور نہ ہی مذمت۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو غزنی سے باہر نکل کر دیکھنا ہوگا۔
وزیر دفاع نے مزیدکہا ہےکہ پی ٹی آئی کی قیادت اندر سے اس بات پر راضی ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں رہیں جبکہ وہ خود حکومتی وسائل، پروٹوکول اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے نام پر جمع ہونے والے وسائل میں سے بھی مبینہ طور پر حصہ لیا جارہا ہے۔
خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے معاملے پر پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے کے معصوم شہداء کے حوالے سے بات کرنے والوں کو شہری شہداء کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت سے پوچھا جائے کہ کیا وہ کسی ایک سولین شہید کے گھر فاتحہ خوانی کے لیے بھی گئی ہے۔
اپنے صوبے کے جن معصوم شہیدوں کی آپ بات کر رہے ھیں فوجی شہداء کی بات رہنے دیں آپ شہری شہداء کی اونر شپ لینے سے بھی انکاری ھیں۔ ذرا بتائیں کسی ایک سولین شہید کے گھر بھی فاتحہ کے لئیے گئے ھیں ۔ یہ دھشت گردی انکا لیڈر عمران خان پختونخواہ میں لیکر آیا وہ انکو اس KP میں بسانے کا سب سے بڑا حامی تھا۔ اسمبلی کی تقاریر اور میڈیا کا ریکارڈ گواہ ھے۔ اس پر میر ے ساتھ tv پہ مناظرہ کر لیں ۔ مرکز سے اقتدار جانے کے بعد ھر چیف منسٹر نے وفاق پر حملہ کیا ۔ 9مئی اسکے علاوہ۔ پوری KP کی لیڈر شپ سرکار کا ما ل خود بھی لوٹتے ھیں اور دھشت گردوں کو حصہ بھتے کی صورت دیتی ھیں ۔ آپ دھشت گردوں کے پارٹنر ھیں۔ جو خون KP میں بہہ رہا ھے آپ کے ھاتھ بھی اس خون سے رنگے ھیں۔ قوم آ پ سے حساب لے گی اور خدا بھی۔
اسلام آباد میرے وطن کی وحدت کا نشان ھے ۔ وفاق کی علامت ھے۔ 25کروڑ پاکستانیوں کی شناخت ھے۔ ھمارے شہید اپنے مقدس خون سے اس کی آبیاری کرتے ھیں۔ ھم نے سال قبل اپنے ازلی دشمن کا غرور مٹی میں ملایا ۔ پاکستانی عوام اور بہادر افواج اندرونی و بیرونی دشمنوں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ھیں ۔ انشا ء اللہ پاکستان ھمیشہ زندہ باد
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 4, 2026
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی عمران خان کے دور میں آئی اور وہ صوبے میں دہشتگردوں کو بسانے کے سب سے بڑے حامی تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اسمبلی کی تقاریر اور میڈیا کا ریکارڈ اس حوالے سے موجود ہے اور وہ اس معاملے پر ٹی وی پر مناظرے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک
ان کا مزید کہنا تھا کہ مرکز سے اقتدار جانے کے بعد خیبرپختونخوا کے ہر وزیراعلیٰ نے وفاق پر حملہ کیا، جبکہ 9 مئی کا واقعہ اس کے علاوہ ہے۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت پر کڑی تنقید کیا کہ وہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو بھتہ اور حصہ بھی دیتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بہنے والے خون کے معاملے پر ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے اور ان کے بقول قوم اور خدا دونوں اس کا حساب لیں گے۔
وزیر دفاع نے اسلام آباد کو پاکستان کی وحدت اور وفاق کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 25 کروڑ پاکستانیوں کی شناخت ہے اور ملک کے شہداء اپنے مقدس خون سے اس کی آبیاری کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک سال قبل اپنے ازلی دشمن کا غرور خاک میں ملایا، جبکہ پاکستانی عوام اور بہادر افواج اندرونی و بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ خواجہ آصف نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ان شاء اللہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔





