پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران پارٹی کے اپنے کارکنوں کی جانب سے قیادت اور احتجاج کے انتظامات پر شدید تحفظات سامنے آگئے۔
سینئرصحافی و تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس، سابق ٹوئٹر، پر ایک پوسٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کے متعدد بیانات اور شکووں کو شیئر کیا ہے، جن میں کارکنوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہماری وہ تمام اضلاع جو عمران خان پر جان دیتے تھے ، آج وہاں پر عمران خان پر ظلم ہو رہا ہے، یعنی بنوں، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور دیگر علاقوں سے لوگ آئے۔ آج یہ کچھ ہو رہا ہے،
ہمارا وزیراعلی میک اپ کے لئے گیا ہے۔اگر آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاو گے تو لوگ بیٹھ جائیں
عمران خان کو غرق کر کیا۔
وزیر اعلی خود چھپ گیا لوگوں کو چھوڑ کر
شفیع جان نہ لوگوں کو کھانا دے سکتا ہے نہ ناشتہ دے سکتا ہے
لیکن پانچ لوگ بھی موجود نہیں ہیں۔
مجھے عمران خان عزیز ہے، وہ ہمارے وزیراعظم ہیں، یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن جب حالات ایسے ہوں گے تو لوگ بھی اسی حساب سے ردِعمل دیں گے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کو جو ووٹ ملے تھے، عمران خان کی رہائی اور حقوق کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن اگر لوگ ہی احتجاج میں شریک نہ ہوں اور لوگ ساتھ نہ دیں تو پھر احتجاج کا کیا فائدہ؟
وزیراعلٰی سے بھی مطالبہ ہے کہ عوام کی بات سنی جائے۔ لوگوں نے اپنی جیب سے چندہ دیا ہے۔ تقریباً ایک ارب تیس کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ یہ رقم ہم نے عوام سے چندہ کرکے جمع کی ہے۔ ہر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا، کسی نے ایک ہزار دیا، کسی نے زیادہ دیا، کسی نے بیس ہزار تک بھی دیے۔
اب آپ نہ کارکنوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، نہ کوہاٹ کے لوگوں کو، نہ بنوں کے لوگوں کو۔ جو لوگ موجود ہیں، وہ صرف چند مخصوص لوگ ہیں۔
شفیع جان لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی بات کی جاتی ہے، لیکن علاقے میں کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ نہ لوگ اس طرح نکل رہے ہیں اور نہ ہی کوئی مؤثر احتجاج نظر آ رہا ہے۔
– ایک ارب تیس کروڑ روپے چندہ جمع کیا گیا، ہم نے بھی اپنا چندہ دیا، دوسروں نے بھی دیا۔ اب اس چندے کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔
– اب یہ سب کچھ بند ہونا چاہیے۔ عمران خان کی جنگ اپنی جگہ، لیکن احتجاج کا ایک طریقہ ہونا چاہیے۔
آخر میں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ احتجاج ناکام ہوا ہے۔ اور اگر اسی طرح مزید احتجاج کیے گئے تو وہ بھی ناکام ہوں گے۔ یہ احتجاج ایک بار پھر ناکام ہو گیا ہے۔
یہ پی ٹی آئی کے اپنے ورکرز کہہ رہے ہیں 👇👇👇
— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) October 6, 2026
کارکنوں کا کہنا ہے کہ بنوں، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور دیگر علاقوں سے لوگ عمران خان کی رہائی اور حقوق کیلئے احتجاج میں شریک ہونے آئے، تاہم انہیں مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔
ایک کارکن نے الزام عائد کیا کہ ہمارا وزیراعلیٰ میک اپ کیلئے گیا ہے جبکہ ایک اور کارکن نے کہا کہ وزیراعلیٰ خود کارکنوں کو چھوڑ کر چھپ گئے ہیں۔ کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ قیادت احتجاج میں شریک افراد کے ساتھ بیٹھے اور ان کے مسائل سنے۔
کارکنوں نے شفیع جان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کیلئے کھانے اور ناشتے کا انتظام نہیں کرسکے۔ بعض شرکاء نے احتجاج میں کارکنوں کی کم تعداد اور سرگرمی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں : کہاں راجا بھوج، کہاں گنگو تیلی، کارکن دھکے کھاتے رہے، سہیل آفریدی آرام فرماتے رہے
ایک کارکن کا کہنا تھا کہ عمران خان سے وابستگی اپنی جگہ برقرار ہے، تاہم اگر لوگ ہی احتجاج میں شریک نہ ہوں اور قیادت کارکنوں کو ساتھ لے کر نہ چلے تو احتجاج کا کیا فائدہ؟
لانگ مارچ کیلئے چندے کے حوالے سے بھی کارکنوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔ ایک شریک نے دعویٰ کیا کہ عوام سے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے چندہ جمع کیا گیا، جس میں لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا۔ کارکن نے مطالبہ کیا کہ چندے کا حساب واضح کیا جائے اور رقم کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہ کی جائے۔
کارکنوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ نہ انہیں ساتھ لے کر چلا جارہا ہے اور نہ ہی کوہاٹ، بنوں اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو مؤثر انداز میں متحرک کیا جارہا ہے۔
بعض کارکنوں نے موجودہ احتجاج کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ بھی اسی طریقے سے احتجاج کیا گیا تو اس کے نتائج بھی مختلف نہیں ہوں گے۔





