کوہاٹ: پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے شرکاء نے کوہاٹ پہنچنے کے بعد اپنی ہی قیادت کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے اور کھانے، ناشتے اور قیام کے انتظامات پر سوالات اٹھا دیے۔
لکی مروت سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع ہونے والا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچا تو بنوں، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور دیگر علاقوں سے آنے والے بعض کارکنوں نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے انتظامات پر ناراضی کا اظہار کیا۔
شرکاء نے شکوہ کیا کہ انہیں ٹینٹوں، سڑکوں، چوراہوں اور میدانوں میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ ان کے بقول قیادت ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں موجود ہے۔ کارکنوں نے سوال کیا کہ اگر انہیں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کرنی تھیں تو مارچ میں شرکت کیلئے بلایا کیوں گیا؟
بعض شرکاء نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، شفیع جان اور شاہد خٹک سمیت دیگر رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ کارکنوں کے درمیان موجود رہیں اور ان کے مسائل سنیں۔
ایک شریک نے شفیع جان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوہاٹ میں میزبانی کا دعویٰ کیا گیا تھا تو کارکنوں کیلئے کھانے اور ناشتے کا انتظام کہاں ہے؟
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں دکانوں کا صفایا کرنے والا منظم گینگ بے نقاب
لانگ مارچ میں شرکت کرنے والے بعض افراد نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ لاکھوں افراد کی شرکت کے دعوے کیے جارہے ہیں، تاہم زمینی سطح پر ایسی سرگرمی نظر نہیں آرہی۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں شرکاء کی مجموعی تعداد کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔
کارکنوں کی جانب سے لانگ مارچ کیلئے جمع کیے گئے چندے کے حساب کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ ایک شریک نے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے جمع ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم اس رقم اور اس کے استعمال کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ناراض کارکنوں نے واضح کیا کہ ان کی عمران خان سے وابستگی برقرار ہے، تاہم ان کے مطابق کارکنوں کی عزت، بنیادی سہولیات اور احتجاج کی مؤثر حکمت عملی بھی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لکی مروت سے شروع ہوا اور کوہاٹ پہنچا۔ شرکاء کے مطابق مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کیلئے احتجاج کرنا ہے۔





