وزارت اعلیٰ کی کرسی چھن جانے کا خوف، کابینہ کا اجلاس طلب

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کرسی پر دباو پڑا تو صوبائی کابینہ کا اجلاس یاد آگیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کرسی پر دباو پڑا تو ان کو صوبائی کابینہ کا اجلاس یاد آگیا۔

 اجازت کے بغیرچیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کی  گورنر سے ملاقات اور ان کو صوبے کے معاملات بالخصوص سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اچانک کابینہ کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قدم مبینہ طور پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے،سیاسی حلقوں میں اس اچانک اجلاس پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ صوبے میں بدامنی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے تاحال ایپکس کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟

انتشاری مارچ لکی مروت سے شروع کیا گیا، جہاں ڈی آئی خان میں ایک پولیس اہلکار اور کسٹم کے 4 اہلکاروں سمیت 5 افراد کی شہادت کا واقعہ پیش آیا، لیکن سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے شہداء کی جنازہ میں شرکت کیلئے کون گیا، اور کیا کسی نے تعزیت کیلئے جانے کی زحمت بھی کی یا نہیں ؟

مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے ناکام لانگ مارچ کے بعد پارٹی کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور کارکنان وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

 کابینہ کا یہ اجلاس صرف ان اکاؤنٹس کو متاثر کرنے اور تنقید کا رخ موڑنے کا ایک مظاہرہ ہے،یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ کیا لانگ مارچ باقاعدہ طور پر ختم ہو چکا ہے جو اب کابینہ کے امور نمٹائے جا رہے ہیں؟ اور اس لانگ مارچ کے بلند بانگ دعوؤں اور مقاصد کا آخر کیا بنا؟

Scroll to Top