وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے متعلق 17 نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چھوٹے کاروبار، زراعت، سستی رہائش، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر شعبوں کے لیے متعدد اقدامات اور مالی منظوریوں کی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کے لیے قرضوں کی سہولت بڑھانے کی غرض سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے تیار کردہ نئے مالیاتی طریقہ کار کی منظوری دی۔ اس طریقہ کار کے تحت مائیکروفنانس اور دیگر غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو حکومت کی موجودہ قرض ضمانتی اسکیموں میں شامل کیا جا سکے گا، جس سے چھوٹے کاروباری افراد اور کسانوں کے لیے قرض تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی۔
کم آمدن والے گھرانوں کے لیے سستی رہائش کے قرضوں کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے موجودہ کریڈٹ گارنٹی فنڈ کا دائرہ بھی بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد سستی رہائش کے لیے دستیاب قرض ضمانتی سہولت کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں سے متعلق سمیڈا کے منظور شدہ کاروباری منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ای سی سی نے 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کرلی۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل کو مکمل کرنے اور اس کی فوری مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے 11 ارب 32 کروڑ 90 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔
ترقیاتی منصوبوں کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو 8 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ دینے کی منظوری دی گئی۔ یہ رقم سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تیاری اور عمل درآمد میں استعمال کی جائے گی۔
تھر کول ریل رابطہ منصوبے کے لیے بھی 10 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔ منصوبے کے ذریعے تھر کے مقامی کوئلے کو بجلی کی پیداوار اور دیگر صنعتی ضروریات کے لیے منتقل کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
بلدیاتی انتخابات سے متعلق بھی ای سی سی نے فنڈز کی منظوری دی۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات، سندھ اور بلوچستان میں ضمنی بلدیاتی انتخابات جبکہ پنجاب میں حلقہ بندیوں کے لیے 59 کروڑ 61 لاکھ 80 ہزار روپے منظور کیے گئے۔
پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے سامان کی خریداری کے لیے فوری طور پر 2 ارب روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔
وزیراعظم آفس اور وزیراعظم اسٹاف کالونی کی ضروری مرمت و دیکھ بھال کے لیے سی ڈی اے کو 30 کروڑ روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح ترکیہ میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 31 میں پاکستان کی شرکت کے اخراجات کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
پاکستان اسپورٹس انڈومنٹ فنڈ کو فعال کرنے کے لیے تقریباً 93 کروڑ 45 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔ اس فنڈ کا مقصد ملک میں کھیلوں کے شعبے کی ترقی اور معاونت ہے۔
چین میں پاکستانی زرعی ماہرین کی مختصر مدتی تربیت کے لیے بھی تقریباً ایک ارب 66 کروڑ 62 لاکھ روپے منظور کیے گئے۔ پروگرام کے تحت ایک ہزار پاکستانی زرعی ماہرین کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی۔
ای سی سی نے 2026 کی تمباکو فصل کے لیے کم از کم رہنما قیمتوں اور مالی سال 2026-27 کے سیس کی شرحوں میں نظرثانی کی تجویز بھی منظور کرلی۔
پاسکو کی صوبائی حکومتوں سے واجب الادا رقوم کی براہ راست کٹوتی سے متعلق تجویز کو مؤخر کردیا گیا۔ یہ معاملہ متعلقہ فریقین سے مزید مشاورت کے بعد دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مقامی صنعت کے فروغ کے لیے پاکستان میں تیار ہونے والے ٹائروں کی درآمد پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق ایس آر او میں ترمیم کی منظوری بھی دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد ملکی ٹائر صنعت اور مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔
ایف بی آر کے اصلاحاتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کو 4 ارب روپے فراہم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی رقوم کو منظور شدہ طریقہ کار کے تحت حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دے دی۔ اس اقدام کا مقصد فنڈ کے وسائل کا مؤثر استعمال اور مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔





