سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ بیان پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
معاملہ اس وقت گرما گرم جب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ میں تقریر کے دوران سابقہ حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے پہلے جو حکومت تھی اور جو لانگ مارچ لے کر آتے تھے وہ فکس میچ کھیل کر آتے تھے جبکہ یہ فکس میچ نہیں بلکہ اب ٹیسٹ میچ ہے اور پھر ٹی ٹوئنٹی کھیلیں گے۔
وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا ایک جوابی آڈیو پیغام لیک ہوا ہے جس میں انہوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ باتیں اور الزامات ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ان کے پاس ہر ایک چیز اور واقعے کا مکمل ریکارڈ موجود ہے اور اگر انہوں نے منہ کھول دیا تو تمام متعلقہ افراد اس طرح ایکسپوز ہوں گے کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر پہلے بھی بات کی تھی لیکن پارٹی کے مفاد اور پارٹی کی خاطر انہوں نے اپنے پیغامات کو ڈیلیٹ کر دیا تھا تاکہ اندرونی اختلافات باہر نہ جائیں۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ اب وہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور ہر شخص کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔





