ایمرجنسی یا گورنر راج؟ ایمل ولی خان کا اہم مؤقف سامنے آگیا

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تحریک انصاف کی حکومت ہر لحاظ سے ناکام رہی ہے۔

ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے مخالف ہیں تاہم موجودہ حالات کی ذمہ داری تحریک انصاف کی حکومت اور اسے اقتدار میں لانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ ڈھائی سال کے دوران عوامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

حکومت نے عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے صوبے کو مسلسل بے یقینی اور ہیجانی کیفیت سے دوچار کیے رکھا، جبکہ کرپشن کا بازار بھی گرم رہا۔

اے این پی کے صدر کا کہنا ہے تحریک انصاف کی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے میں کبھی سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ اس کے طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا رہا کہ اس کی ہمدردیاں عوام، صوبے اور ملک کے مفادات کے بجائے دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور عوام کی قربانیوں کا ساتھ دینے کے بجائے دہشت گردوں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ سہولت کاری کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام اور قانون کے ساتھ کھڑے ہونے والی جماعت کو دہشت گردی اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے پراپیگنڈے کا نشانہ بنایا گیا اور اسے سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہو یا نہ ہو، موجودہ صورتِ حال دراصل تحریک انصاف اور اسے اقتدار میں لانے والوں کے درمیان کشمکش کا نتیجہ ہے، دونوں فریقوں کو اپنی ذمہ داریوں کا جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریک انصاف اور اسے اقتدار میں لانے والوں، دونوں کا احتساب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو مزید سیاسی تجربات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا اور صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Scroll to Top