پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ اور آئینی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ اور آئینی حقوق پر حملہ ہوگا، جبکہ اس سے صوبے میں سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
اعلامیے میں ضم شدہ اضلاع کے عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ، امن کے قیام اور ترقی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان علاقوں کے مسائل کے حل اور عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
پی ٹی آئی نے دہشت گردوں اور دہشت گردی کی ہر شکل کی غیر مشروط مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں اور سیاسی جماعتوں کے مؤقف کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے عوامی نمائندوں سے مشاورت ضروری ہے، تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے متفقہ اقدامات کیے جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج یا ایمرجنسی؟ خیبرپختونخوا کے عوام نے فیصلہ سنا دیا
پی ٹی آئی نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور جماعت اسلامی کے جمہوری مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ وہ آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اعلامیے میں اس مؤقف کا اعادہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کے مسائل کا حل آئینی تقاضوں، سیاسی مشاورت اور عوامی حقوق کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔





