گورنر راج یا ایمرجنسی؟ خیبرپختونخوا کے عوام نے فیصلہ سنا دیا

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بحث نے صوبے کی سیاسی صورتحال کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ صوبے کے عوام موجودہ حالات میں کیا چاہتے ہیں اور ممکنہ سیاسی و انتظامی تبدیلی کے بارے میں ان کی رائے کیا ہے؟

ایک جانب گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے تو دوسری جانب صوبے میں امن و امان، دہشت گردی کے خاتمے، معاشی استحکام اور بنیادی مسائل کے حل کی ضرورت بھی نمایاں ہے۔

گورنر راج کے حامی اسے مخصوص حالات میں انتظامی اختیار کے استعمال کا راستہ قرار دیتے ہیں جبکہ مخالفین کے نزدیک ایسے اقدام سے صوبائی خودمختاری، جمہوری عمل اور عوامی مینڈیٹ سے متعلق سوالات جنم لے سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایک عوامی سروے کے مطابق خیبرپختونخوا کے 60 سے 70 فیصد افراد صوبے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔

سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی 13 سالہ کارکردگی، دہشت گردی اور عوامی مسائل پر عدم اطمینان کو نمایاں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی خبر دار، وزیراعلیٰ سندھ گورنر راج پر اہم بیان

عوامی ردعمل کے مطابق بعض افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے نام پر پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا لیکن ان کے خیال میں صوبے میں توقعات کے مطابق ترقی نہیں ہوسکی۔

عوام کا مؤقف ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران دہشت گردی، امن و امان اور دیگر مسائل کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا رہا ہے اور اب صوبے کو مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہونا چاہیے۔

حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وفاق میں عمران خان کی حکومت کے دور میں بھی خیبرپختونخوا کے مسائل ان کی توقعات کے مطابق حل نہیں ہوئے جبکہ صوبے میں پی ٹی آئی کے طویل دورِ حکومت کے باوجود کئی مسائل برقرار ہیں، ان کے مطابق صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top