پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو یرغمال بنا کر رکھا، دہشت گردی، انتشار اور بدامنی نے صوبے کا امن تباہ کر دیا، وفاقی وزراء

اسلام آباد : وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ’انتشاری ٹولے‘ کی غیر سنجیدگی اور مجرمانہ غفلت کے باعث صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد کا تشویشناک اضافہ ہوا، جس کے بعد آئین کے تحت صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہو گیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 6 سالہ تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2,900 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 2024 سے 2026 کے درمیان ’انتشاری ٹولے‘ کی کھلی چھوٹ اور نااہلی کے باعث یہ تعداد بڑھ کر 8,600 تک جا پہنچی۔

انہوں نے واضح کیا کہ صدر مملکت نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کی تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے 13 سالہ تاریک دور کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسدادِ دہشت گردی کے لیے فراہم کردہ 800 ارب روپے سے زائد کی رقم کہاں خرچ کی گئی، کیونکہ صوبے میں نہ تو سیف سٹی کیمرے لگائے گئے اور نہ ہی فرانزک لیبارٹری قائم ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے ’انتشاری ٹولے‘ کا گھناؤنا کھیل تمام: 13 سالہ تاریک دور کا سیاہ باب دفن، گورنر راج کا نفاذ ہوتے ہی کے پی میں جشن اور ریلیاں

 انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبے کی پچھلی حکومت انسدادِ دہشت گردی کی متفقہ پالیسی پر عمل کرنے سے انکاری تھی اور طے شدہ معاہدے کو وزیراعلیٰ نے مسترد کر دیا تھا۔

 عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک ہی ملک میں دو مختلف خارجہ پالیسیاں نہیں چل سکتیں، جبکہ 13 سالہ تاریک دور میں معدنیات، لکڑی اور تمباکو کی اسمگلنگ کے ذریعے کے پی کی معیشت کو تباہ کیا گیا۔

وفاقی وزراء نے عزم کا اظہار کیا کہ ’انتشاری ٹولے‘ کے اقتدار کے خاتمے اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اب خیبر پختونخوا میں پائیدار امن، تعلیمی و صحتی سہولیات اور عوام کی سیکیورٹی کے لیے تمام قومی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Scroll to Top