خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے اور ایمرجنسی کے نفاذ پر قومی اسمبلی نے بھی حتمی آئینی مہر ثبت کر دی ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں توثیقی قرارداد پیش کی جسے اپوزیشن کے شدید شور شرابے اور نعرے بازی کے باوجود ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔
ایوان میں بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ سیاسی مفاہمت کے لیے ایک بار پھر مذاکرات کا موقع دیا جائے تاکہ درمیانی راستہ نکل سکے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی، سرحد پار دراندازی اور پی ٹی آئی حکومت کی سنگین غفلت کے باعث یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو چکا تھا، جہاں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے 2,911 واقعات ریکارڈ ہوئے، 15کتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد خطرناک حد تک بڑھ کر 3,787 تک جا پہنچی۔
وزیر قانون نے انکشاف کیا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے صدر مملکت اور وزیراعظم کو خطوط کے ذریعے صوبائی حکومت کی عدم توجہی سے مسلسل آگاہ کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : پولیس شہداء کے خاندانوں کے لیے بڑا فیصلہ، آئی جی کے پی کا گورنر ہاؤس میں اہم اقدام
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان، شہدا کے اہل خانہ کی دلجوئی اور سیکیورٹی اداروں سے تعاون کے بجائے دیگر شہروں کے سیاسی دوروں میں مصروف رہی۔





