بین الاقوامی جریدوں اور میڈیا پلیٹ فارمز بشمول ’ٹائمز آف انڈیا‘ اور ’دی اکانومسٹ‘ کے اعتراضات، دعوؤں اور پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کے پس منظر میں آزاد ڈیجیٹل کے پوڈ کاسٹ میں سینئر صحافی فرحان ورک نے معروف انجینئر، مصنف اور تجزیہ کار اقبال لطیف کے ساتھ ایک انتہائی تفصیلی اور جامع مکالمہ کیا ہے۔
اس خصوصی انٹرویو میں پاکستان کی عسکری قیادت، 27ویں آئینی ترمیم، خیبر پختونخوا کے سنگین سیاسی و انتظامی بحران، فوجی اداروں کے کاروباری ڈھانچے، بلوچستان کے حالات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے، ایران و امریکہ ثالثی اور بھارت کی جانب سے عائد کردہ الزامات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
گفتگو کا آغاز اس سوال سے ہوا کہ کیا پاکستان صرف جھنڈے والی ایک چھاؤنی بن چکا ہے جہاں اصل طاقت فوج کے پاس ہے؟ اس پر اقبال لطیف نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2025 میں پاکستان نے 667 سیکیورٹی اہلکاروں اور 580 عام شہریوں کو سپردِ خاک کیا، جو 2011 کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ رواں سال کے نو مہینوں میں شدت پسندوں کے حملوں اور آپریشنز میں 3629 جانیں جا چکی ہیں جن میں 591 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کے اس بیان کا حوالہ دیا جس نے پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی میں غیر معمولی شراکت دار قرار دیا تھا، کیونکہ پاکستان نے ایبی گیٹ بم دھماکے میں مطلوب مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے حوالے کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ تو افغانستان سے واپس چلا گیا مگر پاکستان اپنے جغرافیے سے دستبردار ہو کر کہیں نہیں جا سکتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ فوج مضبوط کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ دہائیوں کے سول اور فوجی ادوار کے بعد بھی باقی ادارے اس قدر کمزور کیوں ہیں۔
نومبر 2025 میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم جس کے تحت آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنایا گیا اور فیلڈ مارشل کو تاحیات عہدہ اور استثنیٰ ملا، کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مارشل لا کا حکم نامہ نہیں بلکہ منتخب ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کی دو تہائی اکثریت سے منظور شدہ آئینی ترمیم ہے۔ اگر پارلیمنٹ نے یہ قانون بنایا ہے تو وہ اسے ختم بھی کر سکتی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے اعتراضات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ جنوری 2020 میں عمران خان کی اپنی حکومت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے جنرل باجوہ کو توسیع دی تھی اور اسے چیلنج کرنے پر پابندی لگائی تھی۔ اس وقت اسے ‘تسلسل اور تنازع کی صورت میں آمریت کہنا اصول نہیں بلکہ سراسر مفاد پرستی ہے۔
صوبوں کی تقسیم اور انتظامی یونٹس سے متعلق انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ خیال کسی جنرل کا نہیں بلکہ خود سیاست دانوں کا ہے، کیونکہ 2012 میں صدر زرداری نے خود جنوبی پنجاب کے لیے کمیشن بنانے کا کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سندھ کی جغرافیائی تقسیم نہیں بلکہ اس کے پیسے کی تقسیم چاہتے ہیں جو یونین کونسل کی سطح تک جائے۔ ورلڈ بینک کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 2005 کے 10 فیصد سے گر کر 2024 میں محض 4.7 فیصد رہ گیا ہے۔ سندھ نے 2007 کے بعد سے کونسلوں کو کوئی فنانس ایوارڈ نہیں دیا اور پنجاب نے 2015 کے بعد بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے۔ 18ویں ترمیم کا سارا پیسہ صوبائی دارالحکومتوں نے اپنے پاس دبا لیا ہے۔
فروری 2024 کے الیکشن اور عمران خان کو جیل میں رکھنے کے تناظر میں انہوں نے دوٹوک کہا کہ مقبولیت کوئی استثنیٰ نہیں ہوتی اور الیکشن کسی جرم سے بریت کا پروانہ نہیں ہوتا۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ان کی اپنی کابینہ کے وزراء اور پرنسپل سیکرٹری کی گواہیاں موجود ہیں۔
9 مئی کے پرتشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے 2011 کے فسادات میں 400 افراد کو پکڑ کر چند دنوں میں جیل بھیجا تھا، جبکہ پاکستان کو اپنے ملٹری ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والوں کو سزا دینے میں 19 ماہ لگ گئے۔
خیبر پختونخوا کے بحران اور گورنر راج کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے اور 12,000 کنٹینرز کے ذریعے راستے بند کرنے سے معاشی و سیکیورٹی بحران پیدا ہوا۔ وزیرِ داخلہ کے مطابق مذاکرات کا مسودہ مراد سعید کو بھیجا گیا تھا جو افغانستان میں مقیم ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 234 اسی صورتحال کے لیے موجود ہے، تاہم مرکز کو بھی مقررہ وقت میں امن بحال کر کے اقتدار واپس منتخب نمائندوں کے حوالے کرنا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2021 میں ٹی ٹی پی کے خاندانوں کو دوبارہ آباد کرنے کا منصوبہ شیریں مزاری کے مطابق باجوہ کا خیال تھا لیکن اس پر دستخط عمران خان نے کیے تھے۔
بلوچستان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے غیر قانونی گمشدگیوں کو ریاست پر بدنما داغ قرار دیا، تاہم موسیٰ خیل اور دیگر علاقوں میں بی ایل اے کے ہاتھوں معصوم مزدوروں اور شہریوں کے قتلِ عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو گمشدگیاں بھی روکنی ہیں اور دہشت گردوں کو شکست بھی دینی ہے۔
فوجی کاروباری اداروں کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ فوجی فاؤنڈیشن 1 کروڑ سے زائد مستحقین کی خدمت کرتی ہے، سالانہ 170 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہے اور 27 ہزار افراد کو روزگار دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
بین الاقوامی سفارت کاری اور دفاعی معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے 7 اگست 2026 کے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کا حوالہ دیا جس کے تحت پاکستان نے 8 ہزار فوجی، جے ایف 17 اسکواڈرن اور ایچ کیو 9 سسٹم سعودی عرب بھیجا۔ اس کے علاوہ 8 اپریل 2026 کو امریکی صدر کے اس بیان کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ گفتگو کے بعد ایران پر بمباری روکی، جس سے خطے میں بڑی تباہی ٹل گئی۔
پہلگام واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ٹائم لائن واضح کرے اور بھارتی میڈیا کے ان جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کیا جو جنگی جنون میں پاکستان کے خلاف پھیلائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برصغیر اور جدید ایشیا کی طویل ترین جنگوں کے درمیان حائل ایک دفاعی فصیل (Buffer) ہے، اور یہ کوئی بھوٹان یا سکم نہیں ہے جو کسی دوسرے کے نقشے کا محفوظ گوشہ ہو۔
اقبال لطیف نے اعتراف کیا کہ پاکستان پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ 5 سے 16 سال کی عمر کے 2 کروڑ 51 لاکھ (25.1 ملین) بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں پنجاب اور سندھ میں کروڑوں بچے شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک سپاہی سرحد کا دفاع کر سکتا ہے لیکن اب پاکستان کو اساتذہ، ڈاکٹرز اور دیانت دار کونسلرز کی دوسری فوج کی ضرورت ہے جو اس ملک کو تعمیر کر سکے۔





