مودی کی ڈکٹیٹر شپ کا جنازہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، غائب ووٹرز اور عالمی میڈیا کی کڑی تنقید

بھارت میں جین زی اور اپوزیشن اتحاد کا جاری شدید احتجاج عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مودی حکومت کے رویے اور بھارتی جمہوریت کے دعوؤں پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔

عالمی جریدوں اور اخبارات کے اہم تبصرے درج ذیل ہیں :

واشنگٹن پوسٹ:
امریکی اخبار نے لکھا کہ نریندر مودی کی اقتدار پر آہنی گرفت اب ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ نوجوانوں نے ملک میں سب سے بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے، جس کے باعث مودی کی ناقابلِ شکست تصویر تیزی سے دھندلارہی ہے۔

دی نیویارکر:
جریدے نے ووٹر لسٹوں کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چھاپا کہ 10 کروڑ ووٹرز غائب ہیں اور اب احتجاج پر بے دردی سے کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے،کیا یہ بھارت میں جمہوریت کا خاتمہ ہے؟

فنانشل ٹائمز:
اخبار نے واضح کیا کہ مودی حکومت چاہے جتنی بھی طاقت استعمال کر لے یا مظاہرین کو دبانے کی کوشش کرے، بھارت کے نوجوان اب خاموش نہیں رہیں گے۔

دی اکنامسٹ:
جریدے کا تبصرہ تھا کہ مسلسل 12 سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد مودی کو اب جین زی نے آڑے ہاتھوں لے لیا ہے، اور یہ نئی نسل مودی کے سیاسی ہتھکنڈوں اور چالوں سے بالکل متاثر نہیں ہوتی۔

ہیومن رائٹس واچ:
انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پولیس مظاہرین کو پیٹ رہی ہے، گاڑیوں میں ٹھونس رہی ہے اور صحافیوں کو اٹھا رہی ہے،کیا یہ واقعی جمہوریت کی ماں ہے یا کچھ اور؟

ٹائم میگزین:
جریدے کے مطابق بھارت میں انتخابی شفافیت پر گہرے سائے منڈلا رہے ہیں اور ملک کے انتخابی نظام میں فوری اصلاحات بے حد ضروری ہیں۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کے شدید کریک ڈاؤن کے دوران سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو پیش قدمی سے روکنے کے لیے دارالحکومت کے متعدد حصوں کو مکمل طور پر بند کر دیا۔

یہ ملک گیر احتجاج چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ووٹر لسٹوں میں کی گئی ان متنازع ترامیم پر کیا جا رہا ہے جن کے بارے میں ناقدین اور اپوزیشن کا الزام ہے کہ ان سے وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر منصفانہ سیاسی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

Scroll to Top