پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت گرنے سے 32 معصوم بچوں اور 2 اساتذہ سمیت 35 افراد کی شہادت کے بعد انتہائی خوفناک اور چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔
بلڈنگ انسپکٹر عبدالقدوس خان نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسکول کی خستہ حال عمارت اور خطرات کے پیشِ نظر اسکول کے مالک خان محمد کو پہلے ہی نوٹس جاری کیا تھا اور عمارت خالی کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بلڈنگ انسپکٹر کے مطابق جب انہوں نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے عمارت کو خطرناک قرار دیا تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی آصف خان اور رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی نے مبینہ طور پر ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے شدید مشکلات پیدا کیں انہیں ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں تاکہ مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈالا جا سکے۔
عبدالقدوس خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت ان کی بات پر عمل کیا جاتا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی دھمکیوں کے آگے جھکنے کے بجائے اس خستہ حال اور جان لیوا عمارت کو خالی کرا لیا جاتا تو آج یہ قیمتی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹر خطیر احمد ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا تعینات
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں سیاسی دباؤ اور دھمکیوں کی وجہ سے سرکاری ملازمین اپنے فرائض ایمانداری سے سر انجام دینے سے قاصر تھے۔





