خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور 11 رکنی ریجنل ڈیولپمنٹ کونسل کے چارج سنبھالتے ہی صوبے بھر میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ تاریک دور کی انتظامی نااہلی اور جمود کا سورج غروب ہو گیا ہے۔
سابقہ حکومت کی مجرمانہ لاپرواہی کا شکار ہونے والے التوا زدہ ترقیاتی منصوبوں پر نئی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کر دیا ہے، جس کے بعد ضلع مردان میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آفتاب طلوع ہو چکا ہے اور عوام میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مردان کے شہریوں نے سابقہ 13 سالہ حکومت کی خراب کارکردگی کا پول کھولتے ہوئے انکشاف کیا کہ پچھلے دور میں عوامی اہمیت کے حامل اربوں روپے کے منصوبے دانستہ طور پر روکے گئے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ سابق نااہل حکمرانوں کی غفلت کی وجہ سے زیڑ ہسپتال اور شیخ ملتون ہسپتال جیسے اہم طبی مراکزی عمارتیں اور سہولیات برسوں سے ادھوری پڑی تھیں، جبکہ بچیوں کے متعدد اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاںبھی زیرِ تعمیر چھوڑ دی گئی تھیں جس سے بچیوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا رہا۔ مزید برآں، شہر کا روڈ نیٹ ورک اور سڑکوں کی خستہ حالی بھی سابقہ دور کے بگاڑ کی منہ بولتی تصویر تھی۔
تاہم نئے انقلابی انتظامی نظام کے تحت ان تمام رکے ہوئے پروجیکٹس سڑکوں کی بحالی اور تعلیمی و طبی عمارتوں کی تعمیر پر کام کی رفتار کو تیز کر دیا گیا ہے اور بھاری مشینری موقع پر متحرک ہو چکی ہے۔
ترقیاتی کاموں کے اس تیز رفتار احیاء پر مردان کے غیور عوام نے انتہائی خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ گورنر اور ریجنل ڈیولپمنٹ کونسل کے فیصلوں کو تاریخی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز میں ہولناک المیہ: بارودی سرنگ سے ٹکرا کر کنٹینر بردار بحری جہاز غرقاب، سمندر پر بکھرے ملبے کے مناظر سامنے آ گئے!
شہریوں کا کہنا ہے کہ 13 سال سے قائم سیاسی جمود اور جھوٹے دعووں کے بعد اب عمل کا وقت آیا ہے، پورے خیبرپختونخوا کی نظریں اس نئے وژن پر ہیں اور ہم گورنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام ضروری مسائل اور ادھورے منصوبوں کو اسی تیز رفتاری سے مکمل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
مردان کے غیور شہریوں نے دوٹوک الفاظ میں شکوہ کیا ہے کہ پچھلی حکومت نے صوبے بھر بالخصوص مردان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور صحت و تعلیم جیسے بنیادی شعبوں کو مجرمانہ غفلت کی نذر کر دیا۔





