البانیا میں تعلیمی زوال، بدعنوان نظام اور بے روزگاری کے خلاف طلباء کی تحریک نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے بعد دارالحکومت تیرانا سمیت ملک کے کئی بڑے شہر شدید بدامنی اور تشدد کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔
تعلیمی اصلاحات اور مہنگی تعلیم کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد تیرانا کا مرکز میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔
جھڑپوں اور ہنگامہ آرائی کے دوران 51 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو چکے ہیںجبکہ انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 55 مشتعل مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔
مظاہرین نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے جلاؤ گھیراؤ کیا اور مشتعل افراد سرکاری عمارتوں، پولیس اسٹیشنز اور تجارتی مراکز میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرتے رہے۔ بے قابو ہجوم نے وزارتِ تعلیم سمیت متعدد اہم سرکاری عمارتوں کو آگ کے حوالے کر دیا، جس سے سنگین مالی و انتظامی نقصان ہوا ہے۔
شدید عوامی اور طالب علموں کے دباؤ کے باوجود البانیا کے وزیراعظم ایدی راما نے مستعفی ہونے کا مطالبہ سخت رویے کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سابقہ حکومت کی مجرمانہ لاپرواہی پر کاری ضرب: مردان میں التوا زدہ اربوں کے منصوبوں پر کام کا ہنگامی احیاء، شہریوں میں مسرت کی لہر!
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ مہنگی تعلیم اور دیگر جائز شکایات پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے اس پرتشدد احتجاج کو البانیا کی یورپی یونین میں شمولیت کے سفر کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب طلباء تحریک کا دائرہ کار دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے جہاں نوجوان ناقص تعلیمی سہولیات، مسلسل بڑھتی ہوئی کرپشن اور روزگار کے فقدان پر وزیراعظم سے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔





