وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ: متعدد اعلیٰ سول اور پولیس افسران کے تقرر و تبادلے

 وفاقی حکومت نے انتظامی امور میں بہتری اور انتظامی ضرورت کے تحت بیوروکریسی اور پولیس سروس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے متعدد سینئر اور جونیئر افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں،جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کر دیا ہے۔

 نوٹیفکیشن کےمطابق سیکریٹری وفاقی تعلیم ڈویژن ندیم محبوب کو سیکریٹری صحت کا اضافی چارج تفویض کر دیا گیا ہے جو 3 ماہ یا کسی مستقل افسر کی تقرری تک مؤثر رہے گا۔

 اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تقرری کے منتظر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 19 کے افسر محمد محبوب کو ڈپٹی سیکریٹری خزانہ ڈویژن تعینات کیا گیا ہے اور ان کی یہ تقرری 22 اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوگی جبکہ پہلے سے اس عہدے پر فائز نصراللہ جان کی خدمات پی سی ایس آئی آر کو واپس لوٹا دی گئی ہیں۔ 

اس کے علاوہ ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 18 کے افسر زوہیب احمد انجم کی خدمات ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن کے سپرد کی گئی ہیں۔

سول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کے بھی بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے میں تعینات گریڈ 20 کے پولیس افسر مصطفیٰ حمید ملک کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ڈی آئی جی عرفان اللہ خان کی خدمات کو خیبر پختونخوا حکومت کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ 

دوسری جانب سندھ حکومت میں تعینات گریڈ 17 کے پانچ اے ایس پیز بشمول دُرِ تابش، محمد نعمان، ندا جنید، محمد آصف اور محمد شعیب امین کی خدمات سندھ سے واپس لے کر اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

Scroll to Top