سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں ایک مخصوص طبقہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پوری جماعت کو دہشت گرد قرار دینا سراسر ناانصافی ہو گی۔ انہوں نے تاکید کی کہ وہ اپنے اس بیان پر آج بھی قائم ہیں کہ پی ٹی آئی پر بطورِ جماعت پابندی عائد ہو گی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان پہلے سے زیادہ مشکلات میں گھِر چکے ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال، ایمرجنسی اور ممکنہ گورنر راج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ چھ مہینے میں اچانک چیزیں ریورس نہیں ہوتیں اور نہ ہی اتنے کم عرصے میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ چھ مہینے میں کوئی کیا کر سکتا ہے؟ اصل مقصد اس مدت میں ایک درست سمت کا تعین کرنا ہے اور اس میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا کی موجودہ کابینہ کے 75 فیصد ارکان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور وہ قابل لوگ ہیں۔ اگر اس کابینہ نے صرف 5 فیصد بھی بہتر کام کر کے دکھا دیا تو پی ٹی آئی کا سیاسی کھیل ختم ہو جائے گا۔
سیاسی رہنماؤوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن کے باپ دادا کے پاس کچھ نہیں تھا، وہ آج امیر ترین بن چکے ہیں، جبکہ عوام کے پاس آج بھی کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب کسی بھی لیڈر کے پیچھے نکلنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ کسی بھی رہنما نے عوام کے لیے عملی طور پر کچھ ڈیلیور نہیں کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسی صورت حال صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں بلکہ دیگر علاقوں میں بھی ہے، تاہم بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات میں واضح فرق ہے۔ جب بھی کوئی دہشت گردوں کے خاتمے کی راہ
میں رکاوٹ بنے گا تو اسی قسم کے نتائج سامنے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ: متعدد اعلیٰ سول اور پولیس افسران کے تقرر و تبادلے
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے گھمبیر مسئلے کی وجہ سے ہی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی فیصل کریم کنڈی سے بات چیت ہوئی ہے اور انہوں نے گزشتہ پانچ دنوں میں انتہائی مثبت اور اچھے اقدامات کیے ہیں۔
اپنے ماضی کے دعووں کا یاد دہانی کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے 10 مہینے پہلے ہی پیشگوئی کر دی تھی کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگے گا اور پی ٹی آئی پر پابندی عائد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی کا امکان موجود ہے اور وہ اپنے 10 مہینے پرانے بیان پر آج بھی قائم ہیں۔ ان کے بقول تین میں سے دو چیزیں سچ ثابت ہو چکی ہیں اور ایک چیز باقی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی سوچ کے مطابق پی ٹی آئی بطورِ جماعت بین ہو جائے گی۔ سیاسی سفر کا تقابل نصاب سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلیبس میں چیزیں شامل بھی کی جاتی ہیں اور بعد میں نکال بھی دی جاتی ہیں۔ اس عمل کا پارٹ ون شروع ہو چکا ہے اور آگے چل کر پارٹ ٹواور پارٹ تھری بھی سامنے آئیں گے، اور جب وہ وقت آئے گا تو اس حوالے سے مزید تفصیلات بتائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : شو ختم، کہانی تمام، تحریکِ انتشار کا 13 سالہ تاریک باب اختتام پذیر، پختونخوا کو بدامنی اور ٹی ٹی پی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا
بانی پی ٹی آئی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان مزید بند گلی میں پھنس چکے ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بانی کو بند کنویں کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے کچھ اندرونی عناصر خود چاہتے تھے کہ بانی پی ٹی آئی جیل کے اندر ہی رہیں، کیونکہ اگر وہ رہا ہو کر باہر آ گئے تو اس وقت جو لوگ پارٹی کی صفِ اول میں نظر آ رہے ہیں وہ کہیں نظر نہیں آئیں گے۔
مستقبل کی سیاست کا نقشہ کھینچتے ہوئے فیصل واوڈا نے مثال دی کہ درخت کو دیمک لگ جائے تو وہ پورے درخت کو کھا جاتی ہے، اور اگر جڑیں ہی خراب ہو جائیں تو صرف شاخوں کو کاٹنے کے بجائے پورے درخت کو ہی کاٹنا پڑتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جمہوریت کو طاقتور بنایا جائے گا اور اب صرف وہی لوگ میدان میں رہیں گے جو عوام کے لیے کارکردگی دکھائیں گے۔





